سینٹرل جیل گڈانی میں سینکڑوں قیدی اور سیکورٹی اہلکار پینے اور استعمال کے پانی کو ترسنے لگے

حب : بلوچستان کی تیسری بڑی سینٹرل جیل گڈانی میں سینکڑوں قیدی اور انکی نگرانی پر مامور درجنوں سیکورٹی اہلکار پینے اور استعمال کے پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے،جیل میں ا س وقت ساڑھے تین سو سے زائد قیدی موجود ہیں بلوچستان کانسٹیبلری،جیل کے عملے انکے اہلخانہ اور سینکڑوں ملاقاتی مرد خواتین اور بچوں کےلئے جیل کے اندر اور باہر تیس سے زائد باتھ رومز،مسجد اور وضو خانہ کے لئے پانی کے روزانہ تین سے چار ٹینکرز استعمال ہوجاتے ہیں جیل کو پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ حب کی جانب سے پائپ لائن کے ذریعے میٹھا پانی فراہم کیا جاتا تھا جس کی فراہم اب گزشتہ کئی دنوں سے بند ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی سے تقریبا پچاس کلومیٹر دور بلوچستان کے ساحلی علاقے اور پرفضا مقام گڈانی میں سینٹرل جیل واقع ہے بلوچستان کی تیسری بڑی سینٹرل جیل گڈانی میں ہمیشہ کی طرح ان دنوں ایک مرتبہ پھر پینے اور استعمال کے میٹھے پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے سینٹرل جیل گڈانی کو پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ حب کی جانب سے 30کلومیٹر لمبی پائپ لائن کے ذریعے حب کے تالابوں سے ہفتے میں دو مرتبہ پانی فراہم کی جاتا تھا مگر گزشتہ کئی دنوں سے نامعلوم وجوہات کی بنائپر سینٹرل جیل گڈانی کو پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے جس کی وجہ سے جیل میں اسوقت مقید ساڑھے تین سو قیدیوں اور انکی نگرانی پر مامور جیل کے عملے سمیت انکے دفاتر کے درجنوں ملازمین اور افسران سمیت قیدیوں کی ملاقات کےلئے آنے والے سینکڑوں مرد خواتین اور بچوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے دوسری جانب جیل کی صفائی پر مامور جیل کے عملے کو جیل کی بیروکوں اور دفتری عمارت اور مسجد کی صفائی کے سلسلے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں