ماحل بلوچ کو بازیاب اور جھوٹا مقدمہ ختم کیا جائے، بصورت دیگر بلوچستان حکومت کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں گے، بی این پی

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماو ں وفاقی وزرا، اراکین اسمبلی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی اور خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے ماحل بلوچ پر قائم بے بنیاد بوگس مقدمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی آر ختم کرکے اسے فوری طور پر رہا کیا جائے، وفاقی اور صوبائی حکومت نے صوبے کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو بہتر بناکر پارٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد نہ کیا تو ہم بہت جلد پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس بلا کر وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے اور بلوچستان حکومت کو اپنی حمایت ختم کردیں گے۔ ہم عوام کے حقوق کے حصول اور اپنی جدوجہد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ موجودہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں اور آئین کے مطابق انتخابات کا عمل یقینی بنایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی اور صوبے میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف لگائے گئے ایک روزہ احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ کے اختتام پر پریس کانفرنس کے دوران پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ، مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ نے اپنے دیگر ساتھیوں وفاقی وزیر مملکت میر ہاشم خان نوتیزئی، بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی، اختر حسین لانگو، ثنابلوچ، اکبر مینگل، شکیلہ نوید دہوار، احمد نواز بلوچ، غلام نبی مری، حاجی عبدالباسط لہڑی، ٹکری شفقت لانگو، موسی بلوچ، جاوید احمد بلوچ ، میر جمال لانگو سمیت دیگر کے ہمراہ کیا۔ مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، فروری میں رحیم زہری اور اسکی اہلیہ رشیدہ بی بی کو کوئٹہ سے اٹھایا گیا جس کے خلاف ہماری جماعت نے آواز بلند کی اور پارٹی کی آواز کو دبانے کیلئے غیر قانونی اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جارہاہے، اس کے بعد گزشتہ دنوں سیٹلائٹ ٹاﺅن کے علاقے سے اس کے گھر سے ماہل بلوچ کو اٹھایا گیا اور دوسرے روز اس کو پارک کے قریب سے گرفتار کرنے کا تاثر دیا گیا، آج بھی ماحل بلوچ کے یتیم بچے اپنی ماں اور انصاف کے لیے ریڈ زون میں بیٹھے ہوئے ہیں، ہماری جماعت کے وفد نے بھی بلوچستان میں لاپتہ افراد اور دیگر ہونے والی زیادتی، غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے وزیر اعظم کو ملاقات میں آگاہ کیا گیا ہے اور ہم نے وزیراعظم کو بھی ماحل بلوچ کے معاملے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ماحل بلوچ کو گھر سے اٹھا کر پارک سے گرفتاری ظاہر کی گئی ہے، یہ اقدامات درست نہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے معاملے سے متعلق وقت مانگا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اس حوالے سے چیزوں کا جائزہ لے رہی ہے اور میں بہت جلد بلوچستان آکر ان چیزوں کے حوالے سے جائزہ لیں گے اور حالات کی بہتری کے لئے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بی این پی ماحل بلوچ پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پر درج ایف آئی آر ختم کرکے اسے رہا کیا جائے، پہلے بلوچستان میں لوگوں کو اٹھایا جاتاتھا اب ہمارے گھروں میں چھاپے مار کر ہماری خواتین کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے اس طرح کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں جس سے بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے ہماری جماعت سیاسی اور جمہوری ہے اور بلوچستان کے مسئلے کا حل سیاسی طور پر چاہتے ہیں موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں، ہماری جماعت کا موقف ہے کہ عام انتخابات آئین کے مطابق وقت پر ہونے چاہئیں۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے، اس مسئلے پر ہم نے پہلے بھی قومی، و صوبائی اسمبلی ،سینیٹ سے استعفی دیا تھا ہمارے لئے سیٹ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہم مسائل کے حل بلوچستان کے حقوق کا حصول اور لاپتہ افراد کی بازیابی چاہتے ہیںصوبے میں جس طرح کی صورتحال پید اکی گئی ہے اس میں لوگوں کو لاپتہ کرنے کے علاوہ سنگین صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے ہم نے عمران خان کی حکومت کی حمایت چارٹر آف ڈیمانڈ اور بلوچستان کے حوالے سے چھے نکات سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی پر کی تھی اور اس دوران 500 لوگوں کو بازیاب کرایا گیا پھر پی ڈی ایم کی حکومت میں بھی ہم چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کرانے کی میاں شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، آصف علی زرداری کی یقین دہانی پر حمایت میں شامل ہوئے تھے اب تو حالات بہت خراب ہوچکے ہیں پہلے مردوں کو اٹھایا جاتا تھا اب خواتین کو بھی گھروں سے اٹھایا جارہا ہے، ایسے واقعات سے ہمیں احتجاج کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔گزشتہ روز وزیر اعظم سے جب بات کی تو انہوں نے کہا کوئٹہ آکر تمام معاملے کا جائزہ لوں گا، بلوچستان میں ایک وزیر کے گھر میں کچھ بچے قتل اور رہا ہوئے، معلوم نہیں مقدمے میں وزیر کو نامزد ہوا ہے یا نہیں، صوبائی حکومت کو بھی دیکھ رہے ہیں ضرورت پڑی تو حکومت تبدیل کرسکتے ہیں، مرکز کی حکومت تو تبدیل نہیں کرسکتے مگر ساتھ ضرور چھوڑ سکتے ہیں، مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تو مرکزی اور صوبائی حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی اور لوگوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو ختم کروانا ہے ہمارے لئے اقتدار، وزارت اور فنڈز کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہمارے خلاف غلط پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے عمران خان کے دور حکومت میں ہمیں 10 ارب روپے کے فنڈز اور 2وفاقی وزارتوں کی آفر کی گئی لیکن ہم نے ٹکرادی ملک ولی نے بتایا کہ موجودہ حکومت میں جب ہم تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دیا تو انہوں نے کہا کہ تمام اتحادی جماعتیں وزارت لیں گی اگر بی این پی وزارت نہیں لے گی تو دوسری جماعتوں میں غلط تاثر جائے گا اس لئے ہم نے یہ وزارتیں قبول کی ہے لیکن ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ چھ نکات اور لاپتہ افراد کے حوالے سے موقف واضح ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں واجہ جہانزیب بلوچ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہماری جماعت سیاسی اور جمہوری ہے ہم تمام فیصلے سینٹرل کمیٹی کے فورم سے کرتے ہیں اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں اور آئین کے مطابق مقررہ وقت پر انتخابات کرائے جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پہلے خفیہ ادارے جو کام کرتے تھے اب وہ کام سی ٹی ڈی کررہی ہے جتنے بھی آپریشن کئے ان میں انہوں نے لوگوں کو مارا ہے ہمارا موقف ہے کہ کسی نے کوئی جرم کیا تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے غیر قانونی اقدامات سے گریز کیا جائے۔ خودکش جیکٹ اور دیگر مواد کی برآمدگی کے دعوئے کئے جاتے ہیں لیکن ان میں صداقت نظر نہیںآتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں