زاہدان میں سخت سیکورٹی کے باوجود لوگ سڑکوں پر آگئے، حکومت مخالف نعرے

تہران : جنوب مشرقی ایران میںبڑی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے، سخت سکیورٹی کی موجودگی اور انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود کارکنوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ ٹیلی گرام پر بلوچ ایکٹوسٹ کمپین (بی اے سی) کی طرف سے نشر کی گئی فوٹیج میں مظاہرین کو آمر مردہ بادکے نعروں کے ساتھ صوبہ سیستان، بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان کے مرکز میں مارچ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ پاکستان کی سرحد سے متصل صوبہ زاہدان ستمبر 2022 میں شروع ہونے والے مظاہروں کا اہم مقام تھا۔ اوسلو میں قائم غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس اِن ایران کے مطابق خطے میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاﺅن میں کم از کم 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں 30 ستمبر کو زاہدان میں ایک ہی دن میں ہوئیں۔ اس دن کو خونی جمعہ یا بلیک فرائیڈے کا نام دیا گیا تھا۔ اس دن انسانی حقوق کے گروپوں کے مظاہرین پر سکیورٹی فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں