اندرون ملک ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے کروڑوں روپے کمائے جارہے ہیں، بلوچستان گڈز ٹرک اونرز

کوئٹہ: بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر حاجی نور محمد شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ٹرانسپورٹ زمینداروں اور عوام کو سہولت دینے کے لئے ایرانی تیل کی سستے داموں فراہمی یقینی بنائی تھی لیکن ان تمام کی سہولیات کی آڑ میں بھتہ مافیا، کسٹم اور انتظامیہ کے ساتھ ملکر تیل اندرون پاکستان منتقل کرکے کروڑوں روپے کمائے جارہے ہیں اور لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنایا جارہا ہے حکومت اور اعلی حکام کو اس کا نوٹس لیتے ہوئے صوبے سے باہر ایرانی ڈیزل لے جانے اور اس کے لئے استعمال ہونے والے گاڑیوں میں بڑے بڑے ٹینکوں کی اجازت نہ دی جائے بصورت دیگر ہم احتجاج کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز حاجی عبدالباقی کاکڑ، حاجی باری داد، حاجی مراد خان، ملک نور خان کرد، وڈیرہ غلام رسول، احمد شاہ مری اور دیگر کے منعقدہ اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، چیف سیکرٹری عبدالعزیز عقیلی، آئی جی ایف سی، چیف کلکٹرز کسٹمز بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کو بلوچستان سے باہر لے جانے پر پابندی لگائی جائے کیونکہ ایرانی تیل بلوچستان کے ٹرانسپورٹروں، زمینداروں اور عوام کی سہولت کے لئے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اجازت دی گئی تھی مگر اب ایرانی ڈیزل پر مافیا قابض ہوکر براہ راست بڑے بڑے ٹرکوں کے اندر بنے ہوئے ٹینکوں کے ذریعے دوسرے صوبوں میں کسٹم، انتظامیہ اہلکاروں کے ساتھ ملکر منتقل کرکے کروڑوں روپے کما رہے ہیں بلوچستان کے ٹرانسپورٹروں اور دیگر لوگوں کو سستے داموں ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کی فراہمی میسر نہیں حکومت بلوچستان کے ٹرانسپورٹروں، زمینداروں اور لوگوں کو ریلیف دیں، بلوچستان سے باہر گاڑیوں میں ٹینک لگا کر تیل لے جانے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ اس کے علاوہ پرچی مافیا، وٹس ایپ کے ذریعے کسٹم اور دیگر انتظامیہ کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے ڈیزل والی گاڑیاں پاس کروائی جارہی ہے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں