سانحہِ ڈنک کا آخری انجام کیا ہوگا؟

منّان صمد بلوچ

سانحہِ ڈنک کے حوالے سے سیاسی ہلچل کی لہر دوڑنے لگ گئی ہے، سوشل میڈیا پر کی جانے والی چوں و چرا اپنے رفتار سے جاری و ساری ہے بڑے پیمانے پر سیاسی مذمتی بیانات نمایاں ہورہے ہیں- میں نے سوچا کیوں نہ اس بیجا روایت کو زندہ رکھتے ہوئے میں بھی چار الفاظ نوشت کرلوں-
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ڈنک میں رونما ہونے والی ڈکیتی کا واقعہ انتہائی افسوسناک، المناک اور اندوہناک ہے جس نے پوری بلوچ قوم کو ہلا کے رکھ دیا ہے- سماجی اقدار کو جھنجھوڑ کر بلوچ عورتوں کی حمیت و غیرت کو داؤ میں ڈال دیا ہے- یہ واقعہ یقیناً ننگ و ناموس کی تحفظ کے دعویداروں کے مُنہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جس کیلئے ہمیں ازسرِ نو غور و فکر کرنا ہوگا-
اس انسانیت سوز واقعے نے مجھے تردد میں مبتلا کرکے ہکا بکا کردیا ہے- بلوچ تو غیرت کے معاملے میں دوسری اقوام کو للکارتا تھا- "ما لجیں گہارانی” جیسے نعرے گلا پھاڑ کر لگاتا تھا- اپنی جان کی بازی لگاکر قومی غیرت کی پاسبانی کیا کرتا تھا- آخر اچانک خون ٹھنڈا کیسے پڑگیا؟ اتنی جلدی غیرت انگیز جزبات سے عاری کیسے ہوگیا؟ کیا یہ نعرہ محض دل کو بہلانے کیلئے ہیں؟ کبھی کبھی اپنے آپ کو بلوچ کہہ کر میرا سر فخر سے بلند ہوتا ہے اور کبھی کبھی ڈنک جیسی شرمناک واقعے کی وجہ سے سر شرم سے جھک جاتا ہے- آخر اس کی نوبت کیوں آجاتی ہے؟
کبھی کسی نے سوچا ہی نہیں ہوگا کہ ایک دن کچھ نام نہاد بلوچ نصف رات میں اپنے ہی ایک بلوچ بہن کی گھر کی چار دیواری کی تقدس کو روندیتے ہیں اور گھر کے اندر گھس کر اسے گولیوں کا نشانہ بناکر شہید کردیں گے- کم ظرفی کی انتہا ہے- نئی دولت کے نشے میں پھلنے پھولنے والے نام نہاد بلوچ ہی اس حد تک گر سکتے ہیں-
اس سخن میں کوئی دو رائے نہیں کہ سانحہ ڈنک سیاسی جماعتوں کے لیے ایک کڑی آزمائش ہے- کیا اس آزمائش میں آل پارٹیز کی سیاسی قیادت سرخرو ہوگی؟ یہ ایک الگ اور اہم سوال ہے جو کسی کے ذہن میں بھی ابھر سکتا ہے- لیکن مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی پریس کانفرنسز سننے کے بعد مجھے پتہ نہیں کیوں ایسا لگا کہ کچھ سنگین رموز کا برملا اظہار نہیں کیا گیا ہے- جان بوجھ کر ان حقائق پر پردہ ڈال کر اپنے لئے بھلا سمجھا گیا ہے- کھلم کھلا واقعے کے سرپرستوں کی جانب انگلی اُٹھانے کے بجائے سیاسی زیرکی سے کام لیا گیا ہے-
لیکن پھر یہ سوال جنم لے گا کہ سیاست تو ایک گھٹیا گیم ہے جس میں گوناگوں ہتھکنڈے رچائے جاتے ہیں- یہ بات اپنی جگہ موثر ہے لیکن سانحہِ ڈنک ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس کیلئے سیاست، اختلاف اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ولولہ انگیز اور مستحکم آواز بننا ہوگا تاکہ دوبارہ کوئی بھی بلوچ سماج کی اقتدار کو پامال کرنے کی جسارت نہ کرسکے اور عام لوگ پُر امن فضا میں تسکین کے ساتھ زیست بسر کرسکیں- واقعے میں ملوث درندوں کے ساتھ ساتھ گروہ کے سرغنہ کو قانون کے کٹہرے میں لاکر عبرتناک سزا دی جائے- مسلح جتھوں کا بالفور خاتمہ کیا جائے اور برمش کو غیر مشروط طور پر انصاف فراہم کی جائے-
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ واقعے کا آخری انجام مجھے روایتی لگ رہا ہے- سیاسی پارٹیاں پریس کانفرنس کریں گی- مختلف ریلیاں نکالی جائیں گی- ٹویٹر پر ٹرینڈ چلائی جائیگی- عوام کی جانب سے کچھ دنوں کے لیے غم وغصہ کا اظہار کیا جائے- آخر کار ہمیشہ کی طرح معاملے کو رفع دفع کیا جائے گا- مرکزی ملزمان کو قانون کے شکنجے سے کھلی چھوٹ دے کر مستثنیٰ قرار دیئے جائیں گے اور معاملہ دب کر رہ جائے گا- اللہ کرے میری پیشن گوئی غلط ثابت ہوجائے لیکن کیا کریں حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا-
"کڑوی گولی ہے نگلنی پڑی گی”

اپنا تبصرہ بھیجیں