جیل بھروتحریک سرگودھا سے متعدد رہنماﺅں سمیت کارکنان نے گرفتاری دیدی ،گنڈاپور کا جیل جانے سے گریز

سرگودھا ڈی آئی خان لاہور ( انتخاب نیوز+مانیٹرنگ ڈیسک+ ایجنسیز) تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کے تحت سرگودھا میں سابق صوبائی وزیر، سابق ایم پی ایز سمیت متعدد کارکنوں نے گرفتاریاں پیش کر دیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے 3 وینز میں بھر کر تحریک انصاف کے کارکنوں کو سلانوالی اور بھاگٹانوالہ کے تھانوں میں منتقل کر دیا، گرفتاریاں دینے والوں میں سابق صوبائی وزیر عنصر مجید خان نیازی، سابق ایم پی اے فیصل فاروق چیمہ، ملک شعیب اعوان، انصر اقبال ہرل، پیر فاروق بہاو¿الحق، ذوالفقار باجوہ، خواجہ خان، نذیر سوبھی، ذوالفقار بھٹی، مہر محسن رضا، ذکا اللہ خان اور دیگر شامل ہیں۔ سابق وفاقی وزیر و پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور نے جیل بھرو تحریک میں کارکنوں اور رہنماو¿ں کے جیل جانے سے گریز پر نئی منطق لے آئے۔ میڈیا سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور نے کہاکہ جیل بھرو تحریک کا مقصد یہ تھا کہ ہم جیلوں سے نہیں ڈرتے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اورخیبرپختونخوا کی جیلوں کے حالات اب اچھے نہیں ہیں، پہلے سے موجود قیدیوں کی حالت بھی خراب ہے، مہنگائی کی وجہ سے قیدیوں کو کھلانے کیلئے کچھ نہیں۔انہوںنے کہاکہ ایک لاکھ مزید جیلوں میں چلے گئے تو مزید حالت خراب ہو گی۔ جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار رہنماﺅں کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں پر پنجاب حکومت نے گرفتاریاں دینے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماﺅں سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی۔پنجاب حکومت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی، اسدعمر اور اعظم سواتی سمیت 9 رہنماﺅں کو 30 روزکے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت نظربندکیا ہے۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا ہےکہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں77 لوگوں کو نظر بندکیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر لاہور نے نظر بندی کے احکامات جاری کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں