بجلی کی بندش کیخلاف احتجاج، زمینداروں نے بلوچستان میں شاہراہیں کھول دیں

کوئٹہ، اندرون بلوچستان : زمیندار ایکشن کمیٹی کی کال پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میںپہیہ جام ہڑتال رہی،چمن کوئٹہ تا کراچی،کوئٹہ تاژوب اسلام آباد،کوئٹہ،سبی تا سکھر،کوئٹہ سے اندرون صوبہ قومی شاہراہوں کو مختلف مقامات پر زمینداروں کی جانب سے روڈ بلاک کرکے بندکیاگیا جس کی وجہ سے سڑکوں کی دونوں جانب لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔جمعرات کے روز زمیندار ایکشن کمیٹی کی جانب سے بلوچستان کے زرعی فیڈرز پر 6گھنٹے بجلی کی بجائے 2گھنٹے بجلی کی فراہمی کے خلاف بلوچستان بھرمیںپہیہ جام ہڑتال کیاگیاجسکے دوران کوئٹہ،مستونگ،پشین،قلعہ عبداللہ،قلعہ سیف اللہ،خضدار،لورالائی،دکی،زیارت، سوراب، موسیٰ خیل،خاران،نسئی،نوشکی،چاغی ودیگر علاقوں میں قومی شاہراہوںچمن کوئٹہ تا کراچی شاہراہ،کوئٹہ تاژوب اسلام آبادشاہراہ،کوئٹہ،سبی تا سکھر شاہراہ،کوئٹہ سے اندرون صوبہ قومی شاہراہوں کو مختلف مقامات پر زمینداروں کی جانب سے بند کیاگیا۔ اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں جمعیت علماءاسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، انجمن تاجران کے اراکین صوبائی اسمبلی اور قائدین اسمبلی حاجی اصغرخان ترین، سید عزیز اللہ آغا، صادق خان کاکڑ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوارڈینیٹرسید امرالدین آغا، محمدعیسی روشان، سید حبیب اللہ آغا، سید طورآغا، دولت خان ترین،سید عبدالباری غرشین، نصرالدین آغا، نادر خان، ملک لطف اللہ ترین ودیگر نے زمیندار ایکشن کمیٹی سے اظہار یکجہتی کی۔ دن بھر شاہراہوں کی بندش کے باعث ٹریفک معطل ہوگیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ انتظامی یقین دہانیوں پر زمینداروں نے شاہراہوں کو کھول کر احتجاج عارضی طور پر ختم کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں