ابھی سیاسی مطلع ابرآلود ہے

اداریہ
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی سمت درست نہیں۔جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل حافظ ہدایت اللہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ بجٹ میں کوئٹہ ۔کراچی خونی شاہراہ کو موٹر وے بنانے بلوچستان میں صحت کی سہولیات کے لئے جدید طرز کے اسپتال، معذور افراد کی کفالت کے لئے پیکج اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافے کا اعلان کرے۔ریلوے کے ملازمین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو ریل کا پہیہ جام کر دیں گے۔یہ دھمکی ایسے وقت دی گئی ہے جبکہ سپریم کورٹ حکومت کو 76ہزار ملازمین کی چھانٹی کا حکم دے چکی ہے۔جس محکمے سے ملازمین کی اتنی بڑی تعداد کو فارغ کیا جا رہا ہو وہاں عام حالات میں سنّاٹا چھا جاتا ہے مگر یہاں ملازمین اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ منوانے کے لئے پہیہ جام کرنے کااعلان کر رہے ہیں۔اسی دوران پاکستان اسٹیل مل سے 9100ملازمین کو فارغ کرنے کا حکومتی فیصلہ بھی سامنے آچکا ہے لیکن ریلوے ورکرز کے حوصلے بلند ہیں۔اس کے معنے یہی ہو سکتے ہیں کہ ملازمین کے لئے موجودہ تنخواہوں میں زندہ رہنا ممکن نہیں رہا۔کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پریشان ہیں وہ سمجھتے ہیں ہلاکتوں میں اضافے کے ساتھ بیروزگاری کا ایک طوفان بھی عالمی سطح پر ایک بہت بڑا مسئلہ بننے جا رہا ہے۔عالمی معیشت کساد بازاری کی لپیٹ میں ہے۔ایسے حالات میں ریلوے ورکرز کے مطالبات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ ہر مسئلے کا حل ڈنڈا نہیں ہوتا، معاملے کی نزاکت اور زمینی صداقت کو بھی مد نظر رکھ جانا ضروری ہوجاتا ہے۔ آج پاکستان کے معروضی حالات تنخواہوں میں اضافہ کا تقاضہ کرتے ہیں۔
دوسری جانب بی این پی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی سے بھی اپوزیشن میں بھی ہلچل پیدا ہوتی نظر آرہی ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے مجوزہ بجٹ کو ملکی ضرورتوں کے حوالے سے ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے شہباز شریف کے کورونا سے صحتیاب ہوتے ہی آل پارٹی کانفرنس بلائی جائے گی۔ اے این پی کی صوبائی قیادت نے عوام کو مشکلات سے نجات دلانے کے لئے ملک کی تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کو مل کر کام کرنے کی دعوت دی ہے۔ جمیعت علماء اسلام بھی متحرک نظر آتی ہے۔ اگر اپوزیشن اپنی سیاسی فراست کو بروئے کار لائے ، تنگ نظری سے باہر نکلے اورایک دوسرے کے لئے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرے تو مشکل حالات میں بھی اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔فوری کامیابی کی بجائے اپنی دیرپا حکمت عملی تیار کرے۔عوامی مسائل کی زبانی کلامی بات چیت اور حمایت سے آگے بڑھے عوام کے ساتھ کھڑی ہو ، اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کرانے کے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دے اور عوام کو یقین دلائے کہ ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔مینار پاکستان پر ایک بڑا جلسہ کرکے ثابت کرے کہ اسے عوامی حمایت حاصل ہے۔الگ الگ جماعتیں ،بکھری ہوئی اپوزیشن اور منتشر الخیالی عوام کو کوئی نیا پیغام نہیں دے سکتی۔اپوزیشن کو مان لینا چاہیئے کہ آج اسے ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے اور یہ بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ اس نے مشکل فیصلوں میں تاخیر کر کے اپنی بارگیننگ پوزیشن کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔دونوں بڑی جماعتوں کے علم میں تھا کہ انہوں نے بعض غلطیوں کے نتیجے میںخود کو عوام سے دور کر لیا ہے۔اب مشکلات کا ایک نیا ریلہ ان کی دہلیز تک پہنچ چکاہے بلکہ دروازے پر دستک بھی دے رہا ہے۔سانحۂ ماڈل ٹاؤن لاہور کی فائلیں الماریوں سے نکال کر میزوں پر رکھی جا رہی ہیں۔یہ افسوسناک واقعہ رونما نہ ہوتا ،تواپوزیشن کی بڑی جماعت کے لئے یہ نادیدہ مشکلات سر نہ اٹھاتیں۔اقتدار سیاسی قیادت کے لئے ایک امتحان ہوتا ہے۔اسے موروثی حکمرانی سمجھنا بڑی غلطیوں کا سبب بنتا ہے۔پی پی پی کی اعلیٰ قیادت بھی انتہائی نامساعد حالات کے بھنور میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مشکلات کا شکار ہے۔
ایسی صورت حال میں عام آدمی سیاسی معاملات سے لاتعلق ہو کر اپنے معاشی مسائل میںگھرا ہوتا ہے۔چنانچہ ریلوے ورکرز کا پہیہ جام کرنے جیسے انتہائی اقدامات کا فیصلہ قابل توجہ ہے ۔ ان کے سامنے بھی یہ سوال ضروررہا ہوگا کہ اپوزیشن اس مشکل وقت میں عملی طور پرکھڑی ہوگی یا لفظی ہمدردی سے آگے نہیں بڑھے گی؟حکومت کے پاس 76ہزار ریلوے ورکرز کی چھانٹی کاعدالتی حکم نامہ موجود ہے، لیکن اس کا بے دریغ استعمال اس کی ساکھ کے لئے حد درجہ نقصان دہ ہوگا۔غریبوں کے دکھ دور کرنے کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی ریلوے ورکرز کے خلاف آخری اقدامات سے پہلے یقینا سوچے گی۔ایسے وقت اپوزیشن کا ورکرز کی حمایت میں کوئی واضح کردار ادا نہ کرنا اسے بھی مہنگا پڑے گا بلکہ زیا دہ مہنگا پڑے گا۔ان حالات میں یہی نظر آتاہے کہ ملک کا سیاسی مطلع ابھی ابر آلود ہے حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔حکومتی اقدامات سے ناراض عوام عموماً اپوزیشن کی جانب دیکھتے ہیں۔چنانچہ اپوزیشن جیسا فیصلہ کرے گی اسی کا پھل پائے گی۔اپوزیشن نے اپنی کئی دہائیوں پر مشتمل طویل سیاسی زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ حالات انہیں یکا و تنہا بھی کرسکتے ہیں۔ یہ انجام اسی عاقبت نا اندیشی کا ہے۔اس سے نکلنے کے لئے نئے عزم اور نئے حوصلے سے میدان میں اترنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں