بلوچستان کو ہمیشہ غیر مستحکم حکومتیں تھمائی جاتی ہیں، سیکورٹی کے نام پر کروڑوں روپے مختص ہونے باوجود امن نہیں، میر اسرار زہری

خضدار (بیورو رپورٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی صدر سابق وفاقی وزیر میر اسراراللہ خان زہری نے کہا ہے کہ سیاست کا مقصد سیٹ جیتنا نہیں ہے بلکہ عوام کی خدمت کرنا ہے عوام کے سیاسی،سماجی مسائل کو سمجھ کو انکی رہنما کرنا ہے بلوچستان میں کسی بھی جماعت کو سیاسی طور پر مستحکم ہونے نہیں دیا جاتا ہے مداخلتوں کے بعد دو یا دو سے زائد جماعتوں کو مشترکہ وغیر مستحکم حکومتیں تھمائی جاتی ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی ان چیزوں کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے نہ کہ ہمیں اس ماحول میں قبول کیا جارہا ہے بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں سیاسی ماحول ہرگز نہیں ہے پی ڈی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی اپنی رسی کشی جاری ہے اس رسی کشی میں حکومت کون ہے اور اپوزیشن کون ہے کسی کو معلوم نہیں ہے بلوچستان جیسے معدنیات سے مالا مال صوبے میں غربت پسماندگی پینے کے پانی کانہ ہونا علاج معالجہ اور تعلیمی سہولتوں کا فقدان انتہاءافسوسناک ہے ان تمام تر محرومیوں کا بنیادی وجہ مرکزی حکومتوں کا بلوچستان سے امتیازی سلوک ہے بی این پی عوامی نے معتدل سیاست کی ہے ہم اونچ نیچ وبے اعتدالیوں کے قائل نہیں ہیں ہم اپنی ترجیحات کو کسی کے خوشنودگی وناراضگی کے لئے ترک نہیں کرسکتے ہیں ہم دھیر ے دھیرے اپنے اہداف کی طرف بڑھتے جارہے ہیں پارٹیوں کی تاریخ میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے لیکن ہم اپنے آباو¿ اجداد کی روایتوں کو نہیں چھوڑیں گے پی ڈی ایم جو کررہا ہے پی ٹی آئی جو کہتی ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے اور ہم اس دوڑ میں شامل ہونے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں میں نے بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کو متحد کرنے کی جن کوششوں کا آغاز کیا تھا اس کی سزا میں میری جماعت کے لوگوں کومجھ سے الگ کردیا گیا لیکن یہ جرم ہم باربار کرتے رہینگے بلوچستان میں امن وامان کے لئے سیکورٹی کے مد میں ماہانہ کروڑوں روپے سرف کئے جارہے ہیں ہر چند کلومیٹر کے بعدچوکیاں قائم ہیں اس کے باوجود بدامنی چوری ڈکیتی کے واقعات کا مقصد ایک مخصوس تجارتی گروہ کو ان شاہراو¿ں پر سہولتیں فراہم کرنا ہے بلوچستان میں ترقیاتی کام نہیں ہے بلکہ ٹھیکیداری ہورہی ہے کمیشن اور کرپشن نے چند ایم پی ایز اور ایم این ایز کو ارب پتی اورعوام کو غریب تر بنادیا ہے بی این پی عوامی بلوچستان سمیت پورے ملک کی سیاسی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے ہم اپنی ترجیحات کے مطابق آگے جارہے ہیں ان خیالات کااظہار بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی سربراہ میر اسرار اللہ خان زہری نے اپنی رہائش گاہ زہری حویلی میں خضدار کے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بی این پی عوامی کے نو منتخب سیکرٹری جنرل وسابق سینیٹر سید اکبر شاہ، مرکزی سینئر نائب صدر ٹکری نذر محمد مینگل، جوائنٹ سیکرٹری صدام بلوچ، سنیئر رہنماءقاضی حسن علی ساسولی، انور قلندرانی، میر مولا بخش زہری، حاجی عبدالغفور چھانگا ودیگر موجود تھے۔ میر اسرار اللہ خان زہری نے مزید کہا کہ بلوچستان کے ساحل وسائل کے لئے جدوجہد ہماری اولین ترجیح میں شامل ہے ملکی آئین کے فریم ورک کے اندر رہ کر قومی اور وطنی حقوق کے لئے جدوجہد کرنا ہمارا حق ہے اس مشترکہ حق کے لئے بلوچستان کے تمام قوم پرست جمہوریت پسند اور مذہبی جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کریں گے جو جدوجہد میں نے شروع کیا تھا اس کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہر ممکن جدوجہد رہیگی بلوچستان کے سائل وسائل کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے آگے ڈھیر کردیا گیا ہے، ریکوڈک کا کیس بلوچستان کے عوام کے لئے نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی کمپنی کے لئے ہارا گیا ہے، ہمارے مستقبل کو جس طرح سے داﺅ پر لگا دیا گیا ہے ہمار ی نئی نسل اپنی وطن میں مایوسی کے علاوہ اورکچھ نہیں پائے گا بلوچستان میں بننے والی دونوں حکومتیں بلوچستان کے نمائندے نہیں تھے بلکہ وہ کسی اور ایجنڈے کے تحت لائے گئے اور بدلے گئے بلوچستانی عوام کو حقیقی جمہوری اور قوم پرست جماعتوں سے امیدیں وابستہ ہیں نہ کہ گورک دھندہ کرنے والے لوگوں سے ایک سوال کے جواب میں میر اسرار اللہ خان زہری نے کہا کہ اپنے لوگوں سے فطری طور پر الفت ہوتی ہے اور اپنے لوگوں سے ملنے کا ہر ایک کا ملنے کو جی چاہتا ہے اور میں بھی چاہوں گا کہ اپنے لوگوں سے ملوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں