گوادر کے نہتے عوام پر کریک ڈاﺅن میں اختر مینگل اور ان کی پارٹی نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا، حسین واڈیلہ
گوادر (بیورو رپورٹ) مولانا ہدایت الرحمن کی عدم رہائی کیخلاف حق دوتحریک کے کارکنوں نے حق دو تحریک کے چیئرمین حسین واڈیلہ کی قیادت میں بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی کا آغاز جاوید کمپلکس سیرت النبی چوک سے ہوا جو پیدل مارچ کرتے ہوئے شہدائے جیونی چوک پر اختتام ہوا۔ ریلی نے شہدائے جیونی چوک پر جلسے کی شکل اختیار کی۔ ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے حق دوتحریک کے چیئرمین حسین واڈیلہ نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن کو عوامی حقوق مانگنے کی پاداش میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمن ایک فرد نہیں بلکہ تحریک بن چکے ہیں مولانا ہدایت الرحمن کو قید کرنے سے حق دوتحریک کے عزم اور استقلال کو کمزور اور عوامی حمایت کو کسی بھی صورت کم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال 26 دسمبر کو گوادر کے نہتے عوام پر جو کریک ڈاو¿ن کیا گیا اور ظلم ڈھایا گیا وہ مکران اور بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا گوادر کے غیور عوام یہ دن کبھی بھی نہیں بھولیں گے، 26 دسمبر کو جو ریاستی جبر و استبداد ہوئیں اس میں سردار اختر مینگل اور اس کی پارٹی نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا جبکہ نام نہاد معتبروں نے گھروں کی نشاندہی کرکے چھاپے پڑوائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد کی بنیاد جمہوری سیاسی مزاحمت پر استوار ہے، ہم نے کبھی بھی قانون نہیں توڑا اور نہ ہی ماورائے قانون احتجاج کیا ہم نے جو بھی احتجاج کیا وہ پرامن تھے لیکن جمہوری سیاسی مزاحمت سے ڈرنے والی صوبائی حکومت اور اس کے سہولت کاروں نے اسے بزور طاقت کچھلنے کی کوشش کی بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں اور بد ترین تشدد بھی کیا گیا لیکن حق دوتحریک کے کارکن اور گوادر کے غیور عوام نے جمہوری سیاسی مزاحمت کا راستہ نہیں بدلا اگر ہم ڈرتے اور تھکتے تو آج کی ریلی میں عوام کا یہ سمندر نہیں ابھرتا۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام نے قوم پرستی کے دعوے دار قوتوں کے چہروں پر قوم پرستی کے جعلی ہمدردی کے نقاب کو اچھی طرح پہچان لیا ہے بلوچ نوجوانوں اور بلوچ خواتین کی ماورائے گرفتاریوں اور جبری گمشدگی کا سودا کرکے گورنر شپ پر راضی ہونا قوم پرستی کے نام پر دھبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق دوتحریک اپنے مطالبات پر قائم ہے غیر قانونی ٹرالرنگ کا خاتمہ، عزت نفس کے ساتھ جینے کا حق سمیت دیگر مطالبات پورے کیئے جائیں گرفتاریوں اور تشدد سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ضلعی انتظامیہ کی بد معاشیاں اور بار بار دفعہ 144 کا نفاذ ہماری تحریک کا راستہ نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بلوچستان میں پالائے ہوئے لوگ پارلیمنٹ میں جائینگے تو یہاں پر باغی پیدا ہونگے اس لئے ٹاوٹس اور عوام دشمن قوتوں کی سرپرستی بند کرکے عوام کو اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا حق تسلیم کیا جائے۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ نگران صوبائی وزیر میر نوید کلمتی نے کہا کہ ضلع گوادر پر قابض سیاسی اشرافیہ قطعی عوام دوست نہیں یہ گروہی مفادات اور ذاتی مفادات کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ضلع گوادر پسماندگی اور محرومیوں کا گڑھ بن چکا ہے عوام سیاسی اشرافیہ کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا پرامن، سیاسی رہنماءہیں وہ عوام کی بات کرتا ہے، لشکر بلوچستان بنانے والوں نے گورنرشپ حاصل کرلی ہے۔ مولانا ہدایت الرحمن کو فی الفور رہا کیا جائے۔


