جمہوری عمل بند ہونے سے لوگ پہاڑوں پر گئے، ہم پارلیمنٹ سے باہر مسائل کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، حاجی لشکری

کوئٹہ، کراچی : بلوچستان پیس فورم کے سربراہ سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگ دس ہزار سالہ تہذیب کے وارث ہیں، صوبے میں جمہوری عمل اورڈائیلاگ کا راستہ بند ہونے کے نتیجے میں لوگ پہاڑوں پر گئے، آج پارلیمنٹ مفلوج ، سیاسی جماعتیں پاوور شیرنگ میں لگی ہوئی ہیں ان کے پاس ملک کے معاملات کو درست کرنے کا ایجنڈا ہے نہ صلاحیت ،ہماری جدوجہد پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے کیلئے ہے،پاکستان کو معاشی ڈیفالٹ کی نہج پر پہنچانے کے پس منظر میں ایٹمی اثاثے چھیننا ہے ،ملک کو درپیش بحرانوں کے حل کیلئے عوام کا اختیار عوامی نمائندوں ، پارلیمنٹ کوخودمختار، قومی اکائیوں کے اختیارات صوبائی اسمبلیوں کو منتقل کئے جائیں ۔ یہ بات انہوںنے گزشتہ روز کراچی میں ہونے والے تیسرے قومی سیمینار بعنوان نیشنل ڈائیلاگ آن دی ری ایمیجننگ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس سے سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اور ان کے ساتھی بلوچستان کی آواز کو ملک کے دیگر حصوں تک پہنچانے کیلئے یہاں آئے ہیںکیونکہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلط پارلیمنٹ معیشت پر بوجھ ہے اس پارلیمنٹ کی کوئی اخلاقی حیثیت اور جواز باقی نہیں رہا اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم پارلیمنٹ سے باہرمزاکرت کے ذریعہ مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں ، انہوںنے کہاکہ تمام مسائل پر تبصرے تو کئے جاتے ہیں مگرپہلی بات یہ ہے کہ معاملات کا اختیار کس کے پاس ہے ہماری جدوجہد پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے کیلئے ہے تاکہ اس پالیسی ساز ادارہ کے ذریعے ملک اور لوگوںکو بحران سے نکال سکیں ، انہوں نے بلوچستان پر انگریزوں کی حکومت کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں انگریز کی کبھی حکومت نہیںرہی ہے بلکہ لارڈ سنڈیمن نے وائسرائے کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے بلوچستان کے لوگوں کیساتھ باقاعدہ معاہدات کئے تھے جیسے باقی دنیا میں ہوتے رہے ہیں۔ 1948ءمیںبلوچ اسٹیٹ یونین کے سربراہ خان آف قلات اور محمد علی جناح کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوںنے کہاکہ 1940ءکی قرار داد کے تحت تشکیل دیئے گئے فیڈریشن میں یہ ضمانت دی گئی تھی کہ یہاں آباد اقوام اس ملک کی قومی اکائیاں ہوں گی مگر بلوچستان میں جمہوری عمل کو روک کر ڈائیلاگ کا راستہ بند کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ بلوچ جن کے آباﺅ اجداد نے شمشیر چلاکر اس وطن کا دفاع کیا تھا انہوں نے پہاڑوں کا رخ کیا جس کی ذمہ دار فیڈریشن اوراس کے طاقتور لوگ ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بلوچستان کے لوگ دس ہزار سال کا تہذیبی سفر طے کرکے یہاں تک پہنچے ہیںاور ہمارا تعلق تہذیبوں کی جنم بھومی مہرگڑھ ہے اور وہ لوگ جو خود کو جدید اور تہذیب یافتہ کہتے ہیں یہ مہر گڑھ کی مرہون منت ہے ہم اپنے وطن یہاں کے لوگوں اور آئندہ نسلوں کیساتھ مخلص اور پرعزم ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ مفلوج ، سیاسی جماعتیں پاوور شیرنگ میں لگی ہوئی ہیںکسی کو مدت ملازمت میں توسیع دینے کیلئے تو سب متفق ہوجاتے ہیں لیکن قومی حقوق عوامی مسائل پر یکجا نہیں ہوتے ان سیاسی جماعتوں اور مسلط پارلیمنٹ کے پاس ملک کے معاملات کو درست کرنے کا ایجنڈا ہے نہ صلاحیت ۔ انہوںنے کہا کہ ملک میں ایک منظم منصوبہ بندی اور سازش کے تحت حقیقی سیاسی قیادت کو پارلیمنٹ سے باہر رکھا گیا ہے تاکہ ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے قریب لے جایا جائے اور آج ملک معاشی ڈیفالٹ کی نہج پر پہنچ گیا ہے اور یہ بات خارج ازمکان نہیں کہ اس منظم معاشی ڈیفالٹ کے بدلے پاکستان کے ایٹمی اثاثے اس سے چھین لیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو درپیش بحران اس وقت حل ہوں گے جب عوام کا اختیار عوامی نمائندوں کے پاس ہوگا ، پارلیمنٹ خودمختار، قومی اکائیوں کے اختیارات صوبائی اسمبلیوں کے پاس ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں