بلوچستان کے مسائل پر سیاسی جماعتوں کو مفاہمت نہیں مزاحمت کرنا ہوگی ،ہدایت الرحمان

پسنی (نامہ نگار)حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے جیل سے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں وفاقی اور صوبائی سیاسی جماعتیں ہیں جبکہ ہر جماعت کا اپنا مرکزی کابینہ بھی ہے اور ورکروں کی بڑی تعداد کی موجودگی کا بھی دعوی کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہر جماعت کے ذمہ دار یہ کہتے نہیں تھکتے کہ انکی جماعت ایک نظریاتی جماعت ہے اور اس کے ورکر اس کے نظریہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف شمولیتی پروگرامات کی بھی بھر مار ہے اور ہر پروگرام میں بڑے جوش و خروش سے اپنی اپنی جماعت کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کے نظریے اور ان کے ورکروں کا احترام کرتے ہیں اور ہر سیاسی کارکن اور قیادت کا احترام ہم پر لازم ہے لیکنحق دو تحریک سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور تنقید سے کوئی بھی مبرا نہیں جبکہ ضروری نہیں کہ سب حق دو تحریک سے مل کر ہی جدوجہد کریں لیکن سوال یہ ہےکہ آج جب مکران مسائلستان بنا ہوا ہے، ساحل بلوچستان ٹرالر مافیا کے نرغے میں ہے اور بارڈر پر ٹوکن مافیا اور بھتہ مافیا کا راج ہے اور بارڈر پر فی ٹوکن دو دو لاکھ روپے تک فروخت ہو رہی ہےاور کمیشن خوری اپنے عروج پر ہے جبکہ منشیات کے اڈے دن کی روشنی میں سرعام چل رہے ہیں اور آسامیوں کی خرید و فروخت کا دھندا جوبن پر ہے اس مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ رکھی ہے اور چیک پوسٹوں پر اب بھی لوگوں کی تذلیل جاری ہے تو اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں کی خاموشی کی وجہ کیا ہے؟ اگر ان مسائل کے خلاف آواز اٹھانے اور جدوجہد کرنے پر کوئی پابندی ہے تو اس پابندی کے خلاف کوئی کچھ بولتا کیوں نہیں؟ جب سیاسی کارکنان کو قید میں ڈالا جاتا ہے تو جماعتیں چپ کیوں ہیں؟ ماں بہنوں پر تشدد ہوتا ہے تو سیاسی پارٹیاں خاموش ہیں انہوں نے کہا کہ کاروباری حضرات سمیت عام عوام اور ماہیگیر پریشانی سے دوچار ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں پھر بھی مطمئن ہیں انہوں نے کہا کہ آخر اتنی ساری سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکنان کس مرض کی دوا ہیں؟ کیا انہوں نے کارکنان کو صرف الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے اور دینے کے لئے ہی استعمال کرنا ہے اور باقی عوامی معاملات میں ان کو کوئی سروکار نہیں انہوں نے کہا کہاگر حق دو تحریک کے مطالبات اور اس کی جدوجہد غلط ہیں تو دوسری جماعتیں درست کام کریں دھرنا دیں احتجاج کریں، عوام کو سڑکوں پر لائیں اگر ان سرگرمیوں پر کوئی پابندی ہے تو ان پابندیوں کے خلاف بولیں آخر اس چپ کے روزے کو کب توڑا جاسکتا ہے اور یہ روزہ کیوں اور کس مقصد کے لئے رکھا گیا ہے؟انہوں نے کہا کہ ٹرالر مافیا ساحل کو تاراج کر رہے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں نے خاموشی اختیار کر لی ہے اور عوام پر بدترین ظلم کے باوجود عوامی رہنماو¿ں نے چپ سادھ لی ہے کیا ایسی صورت میں عوام کو شک نہیں گزرتا کہ کہیں یہ سیاسی جماعتیں ان مافیا کے حصہ دار تو نہیں؟انہوں نے کہا کہ عوام کی سیاسی تربیت کرنا اور ان کو ذمہ داری کا احساس دلانا، عوام کو گھروں سے نکال کر ان کے حقوق کے لئے سڑکوں پر لانا اور ان کو جمہوری جدو جہد کے لئے تیار کرنا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔جب سیاسی شخصیات طاقتور اور کارکنان کمزور اور سیاسی دفاتر ویران ہوں جبکہ سیاسی رہنماو¿ں کے بیٹھک آباد ہوں اور سیاسی سرگرمیاں محدود اور سرکاری پروگرام عام ہوجائیں تو سمجھ لیں کہ سیاسی جماعتوں کا زوال شروع ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جن کارکنان کو مزاحمت کے لئے تیار کیا گیا تھا آج وہ ایک افسر کے چائے کے کپ کےسامنے ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ آخر بیوروکریسی فرعون بن کر من مانی فیصلے کیوں مسلط کرتے ہیں اور سیاسی جماعتیں ان کے خلاف مزاحمت کیوں نہیں کرتے اور گوادر و کیچ انتظامیہ کے ہر فیصلے کی خاموش تائید کیوں کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بلوچستان میں کہیں بھی کوئی ظلم ہوتا تو گوادر سمیت مکران بھر کے لوگ مزاحمت و احتجاج کرتے لیکن 26 دسمبر کو جب گوادر میں فورسز کی جانب سے ماو¿ں بہنوں پر بدترین تشدد ہوا اور بزرگوں کو گھسیٹ کرنوجوانوں کو جیل میں ڈالا گیا اور عوام پر بدترین شیلنگ اور لاٹھی چارج کی گئی، کارکنان پر مقدمات قائم کئے گئے تو اس وقت بلوچستان کے سیاسی جماعتیں خاموش تماشا دیکھ رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھاجیسے ان کو گوادر اور گوادر کے عوام اور ان کے حقوق سے کوئی سروکار نہیں جبکہ سیاسی جماعتوں کو اس مشکل گھڑی میں جس طرح گوادر عوام کے ساتھ کھڑ اہونا چاہئے تھا اور جو سیاسی کردار ادا کرنا تھا وہ ایسا کرنے میں ناکام رہےاورشاید وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہمارے ساتھ تو نہیں ہورہا لیکن گوادر کے عوام نے ثابت کردیا کہ وہ کسی ظلم و جبر کے آگے نہیں جھکیں گے، بدترین تشدد، چھاپوں ، گرفتاریوں اور مقدموں کے باوجود بھی عوام ان طاقتوں کے سامنے ڈٹے رہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں اگر سیاسی جماعتوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا اور مفاہمت کو چھوڑ کر دوبارہ مزاحمت کا راستہ نہیں اپنایا اور اپنے کارکنان کی صحیح معنوں میں تربیت نہیں کی تو وہ دن دور نہیں کہ جب ہم صرف اپنا گھر جلنے کے انتظار میں دیواروں سے جھانکتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں