کوئٹہ، ہوٹلوں، فوڈپوائنٹس و اسٹالز پر حفظان صحت کے اصولوں کافقدان، شہریوں کی زندگیاں داؤپر لگ گئیں

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ہوٹلوں ، فوڈپوائنٹس اوراسٹالزپرحفظان صحت کے اصولوں کافقدان ،ماہ صیام میں بھی غیر معیاری اشیا خوردونوش کی فروخت کاسلسلہ رک نہ سکا، بلوچستان فوڈاتھارٹی اورضلعی انتظامیہ کے حکام منظرعام سے غائب ہوگئے ہیں اور کوئی جائزہ لینے والانہیں ہے ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے پرنس روڈ، مسجدروڈ، جناح ٹائون، شہبازٹائون، ایئرپورٹ روڈ، لیاقت بازار، سریاب روڈ، جوائنٹ روڈ، سرکی روڈ، گوالمنڈی چوک اوردیگرمقامات پر قائم ہوٹلوں، فوڈپوائنٹس پرصفائی ستھرائی کافقدان ہے۔ رمضان المبارک کے آغازکیساتھ ہی منافع خورمافیا سرگرم عمل ہے جوہوٹلوں اوراسٹالزمیںغیر معیاری گھی اورمصالحہ جات سے پکوڑے، سموسے، چپس ، رول اوردیگرفاسٹ فوڈتیارکرکے کھلے عام فروخت کررہے ہیں اورکئی دنوں تک ایک ہی تیل سے چیزیں تیارکرتے ہیں اورانہیں کوئی پوچھنے والانہیں ہے۔شہریوں نے بتایاکہ ہوٹلوں میں مہنگائی عروج پرہے افطاری کے بعد نوجوان بڑی تعدادمیں چائے پینے کیلئے ہوٹلوں اورٹی اسٹالزکارخ کرتے ہیں جہاں پر صفائی ستھرائی کافقدان ہے جبکہ سرکاری نرخنامے کاکوئی خیال نہیں رکھاجاتا اورفی کپ چائے دودھ والی 70روپے ، سلیمانی چائے 40سے50روپے ، چکن پراٹھے 250سے280روپے میں فروخت کیاجارہا ہے ۔شہریوں نے تشویش کااظہارکرتے ہوئے بتایاکہ کسی ہوٹل میں سرکاری نرخنامہ نظرنہیں آتااورسب من مانے پیسے وصول کررہے ہیں ۔دوسری جانب اشیا خوردونوش کے معیارکاجائزہ لینے کیلئے بلوچستان فوڈاتھارٹی کاادارہ اورضلعی انتظامیہ حکام بھی منظرعام سے گائب ہیں اورکسی نے ہوٹلوں اورٹی اسٹالزکادورہ کرکے اشیا خوردونوش کے معیاراورصفائی کے انتظامات کاجائزہ لینے کی زحمت تک نہیں کی۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ غیر معیاری اشیا خوردونوش فروخت کرنے والے مافیا کے خلاف کریک ڈائون کرکے سرکاری نرخنامے پر عملدرآمدکرایاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں