تین رکنی بینچ کے متنازعہ فیصلے پر احتجاج کرنا سیاسی جماعتوں کا حق ہے، شیری رحمان
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ تین رکنی بینچ کے متنازعہ فیصلے پر احتجاج کرنا سیاسی جماعتوں کا حق ہے۔ جب عدل، قانونی اور اخلاقی تقاضے پورے نہیں ہونگے تو فیصلوں پر سوالات ضرور اٹھیں گے۔ تین رکنی بینچ کے فیصلے پر ہمارا ایک نہیں بلکہ کئی تحفظات ہیں۔ بینچ کی تشکیل اور تقسیم نے اس عمل کو ہی متنازعہ بنا دیا تھا۔ان خیالات کااظہار شیری رحمان نے بدھ کے روزٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ یکم مارچ کو چار ججز نے ازخود نوٹس کے خلاف فیصلہ دیا، جب ججز کی اکثریت فیصلہ دے چکی تھی تو تین رکنی بینچ کیوں بنا؟ چار ججزکے فیصلے کو تین رکنی بینچ نہیں بلکہ لارجر بینچ یا فل کورٹ بینچ ہی مسترد کر سکتی تھی جبکہ فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا کو بار بار مسترد کیا گیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ سیاسی جماعتیں فریق بنانے کی درخواست کرتی رہیں، انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کا موقف کو ہی سننے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔14 مئی کو 90 نہیں120 دن بنتے ہیں۔ آرٹیکل (2) 224 میں اگر 90 دن کے اندر انتخابات کرانے ہیں تو فیصلے میں 14 مئی کی تاریخ کے پیچھے کیا مصلحت ہے؟


