سندھ کے دیو ہیکل ٹرالر مافیا بلوچستان کی سمندری حیات کی نسل کشی میں مصروف ہیں، بی این پی عوامی
حب (آئی این پی) سندھ کے دیوہیکل گجہ نیٹ و وائر نیٹ مافیاز نے ضلع لسبیلہ وضلع حب کے سمندری حیاتیات کا مکمل صفایا کرکے یہاں کے چھوٹے ماہی گیروں کو بے روز گاری کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے محکمہ فشریز لسبیلہ و حب کے سمںدری حیات کو تاراج کرنے کی پالیسی ترک کر دیں۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے مرکزی سیکرٹری ماہی گیری میر عبدالصمد زہری نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ رس ملان سے لیکر گڈانی کنڈ تک اس وقت سندھ کے غیر قانونی ٹرالرز مافیاز نے مقامی چھوٹے ماہی گیروں کی زندگیاں اجیرن بنا کر رکھ دی ہیں کیونکہ مزکورہ ٹرالرز مافیاز سے محکمہ فشریز لسبلہ و حب گڈانی ڈام نمبرنگ کر کے بھاری رشوت لیکر سندھ کے ٹرالرز مافیاز کو کھلی چھوٹ دے کر سر عام یہاں کی سمندری حدود میں غیر قانونی ممنوعہ جالوں کے زریعے ہماری سمندری قیمتی نایاب مچھلیوں کی دیدہ دلیری کے ساتھ نسل کشُی کر رہے ہیں اور محکمہ فشریز کے راشی آفیسران بھتہ خوری،لوٹ ماری،کریپشن اور بندر بانٹ میں مصروف عمل ہے گویا کہ محکمہ فشریز نے ٹرالرز مافیاز سے ٹھیکہ پر سمندر کو لیا ہو اس ضمن میں یہاں سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ ڈبو رہے ہیں ان نما?ندوں کی خاموشی سے لگتا ہے کہ وہ بھی اس کھیل میں ملوث ہیں میرعبدالصمد زہری نے کہا کہ ٹرلرز مافیاز،محکمہ فشریز اور یہاں کے عوامی نمائندوں کی ملی بھگت اور گٹھ جوڑ سے لسبلہ و حب گڈانی ڈام پسنی گوادرودیگرسائلی پٹی کے ماہی گیر انتہا ئی غربت،مفلسی، لاچاری،بے روزگاری اور تنگ دستی کی دلدل میں پھنس کر بے یار ومدد گاری کی سی کیفت میں اپنی زندگیاں گزارنے پر مجور ہیں۔ بی این پی عوامی کے مرکزی سیکرٹری فشریزمیر عبدالصمد زہری نے آخر میں حکومت وقت سے پُر زور مطالبہ کیا کہ سندھ کے غیر قانونی ممنوعہ جال استعمال کرنے والے گجہ نیٹ و وائر نیٹ ٹرالرز مافیاز سے ضلع لسبیلہ و ضلع حب اورگڈانی ڈام پسنی گوادرودیگرسائیلی پٹی اورچھوٹے مچھیرےودیگرسائیلی پٹی کے ماہی گیروں کو چھٹکارہ دلا کر یہاں کے ماہی گیروں کی داد رسی کریں تاکہ مقامی چھوٹے ماہی گیر اپنا گزر بسر کر سکیں۔


