مردم شماری کے نام پر بلوچستان سے پھر زیادتی ہوئی تو شدید الفاظ میں مذمت کریں گے ،بی این پی
کوئٹہ+اسلام آباد(این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ ماضی کی طرح اگر اس دفعہ بلوچستان میں خانہ و مردم شماری کے مرحلے کو مکمل نہیں کیا گیا تو ایک بار پھر بلوچستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہو گی ماضی میں بلوچستان میں خانہ شماری و مردم شماری کے مرحلے کو کبھی بھی صحیح معنوں میں مکمل ہونے نہیں دیا گیا اگر اس بار بھی ایسا کیا گیا تو اس کی شدید الفاظ میں مذمت کریں گے پارلیمنٹ سمیت تمام فورمز پر اس حوالے سے آواز بلند کرنے کو ترجیح دیں گے ماہ صیام میں مردم شماری ، خانہ شماری کی جا رہی ہے اس میں سست روی کا عنصر زیادہ ہے بلوچستان جو وسیع و عریض علاقوں پر مشتمل ہے آج بھی شاہ نورانی ، سارونہ ، ضلع خضدار و مکران کے اکثریتی علاقوں سمیت بلوچستان کے بعض اضلاع میں اس مرحلے کو مکمل کرنے میں سست روی سے کام لیا جا رہا ہے دیہاتوں ، ریگستانوں اور پہاڑی علاقوں میں آباد بلوچ جو گلہ بانی اور زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں انہیں شمار نہیں کیا گیا 2017ئ میں بھی ہماری آبادی کو کم شمار کیا گیا اگر اس دفعہ کوئی سازش کی گئی تو یہ ناقابل برداشت ہو گا ایسے کسی بھی سوچ کو پروان چڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری آبادی کو دیکھ کر سیخ پا ہو آج پھر کوشش کی جا رہی ہے کہ ہماری آبادی کا تناسب ماضی کی طرح کم ظاہر کیا جائے جو بلوچستانی عوام کیلئے ناقابل برداشت ہے پارٹی بیان میں کہا گیا کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل و مرکزی قیادت نے ماضی کی ناانصافیوں ، زیادتیوں کسی بھی طبقے کے ساتھ استحصال ہونے نہیں دیں گے مردم و خانہ شماری کے مرحلے میں توسیع کی جائے تاکہ مردم شماری ہر فرد تک پہنچ سکے اس کے برعکس ہم کسی بھی صورت مردم شماری کو تسلی بخش قرار نہیں دیں گے –


