سمندر میں کمیونٹی پولیس کا قیام غیر قانونی ماہی گیری کے خاتمے میں مددگار ہوگا، محکمہ فشریز بلوچستان
کوئٹہ : محکمہ ماہی گیری بلوچستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر سکندر اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار سمندر میں کمیونٹی پولیس متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے منظوری دیدی ہے یہ کمیونٹی پولیس کا تصورمحکمہ ماہی گیر بلوچستان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا پاکستان کے 770 کلو میٹر سب سے بڑا ساحل جو کہ بلوچستان میں ہے، ساحل سے سمندر کے اندر 12 ناٹیکل تک حدود بلوچستان کا علاقائی پانی کہلاتا ہے جس میں صوبے کے ماہی گیروں کو شکار کی اجازت ہے یہ بات انہوں نے میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہی، ان کا کہنا تھا کہ کھلے سمندر میں شکار کی اجازت رکھنے والی سندھ کی بڑی کشتیوں (ٹرالرز) کی جانب سے اس حدود کی خلاف ورزی کی شکایات آتی رہتی ہیںان خلاف ورزیوں پر گزشتہ پانچ سے چھ ماہ کے دوران ہم نے 70 کے قریب ٹرالر پکڑے ہیں۔ جب سے محکمہ ماہی گیری بنا ہے ابھی تک اتنی کم مدت میں سب سے زیادہ ٹرالر پکڑے گئے ہیں۔‘’سمندر میں بلوچستان کے علاقائی پانی کی حدود 24 ہزار مربع کلومیٹر بنتی ہے جس میں شکار کی نگرانی محکمہ ماہی گیری کرتا ہے، تاہم اس وسیع و عریض سمندری علاقے کی نگرانی کے لیے محکمہ ماہی گیری کے پاس 5 سوسے بھی کم کی تعداد میں عملہ ہے جس میں فشریز انسپکٹر، اسسٹنٹ انسپکٹر اور فشریز واچر شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’وسائل اور افرادی قوت کی کمی کے سبب محکمہ ماہی گیری کے لیے وسیع علاقے کی نگرانی کا کام مشکل ہے اس لیے حکومت بلوچستان پاکستان میں پہلی مرتبہ سمندری کمیونٹی پولیس متعارف کرا رہی ہے۔ یہ سی پی ایل سی کراچی کی طرز پر ہوگی جس کے اندر ایک کنٹرول سینٹر ہوگا اور اس میں محکمہ ماہی گیری، فشر مین سوسائٹی اور ماہی گیروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔‘’اس منصوبے کے تحت ماہی گیروں کو مفت سمارٹ فونز دئے جائیں گے جس میں ایک خاص اپیلی کیشن شامل ہوگی۔ جہاں کہیں بھی ماہی گیر مقامی پانیوں میں ٹرالرز کو دیکھیں گے وہ کیمرے سے تصاویر اور جی پی ایس سے لوکیشن معلوم کر کے اس اپیلی کیشن کے ذریعے کنٹرول سینٹر کو رپورٹ کریں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اطلاع ملنے پر محکمہ ماہی گیری، لیویز، میرین فورس، کوسٹ گارڈز اور دیگر سٹیک ہولڈرز مل کر ٹرالرز کے خلاف کارروائی کریں گے۔ اس طرح مقامی ماہی گیروں کی شکایات کا ازالہ ہوگا۔ کامیاب کارروائی پر متعلقہ ماہی گیر کو نقد انعام بھی دیا جائے گا۔‘ مزید بتایا کہ ’اس کے ساتھ بلوچستان کے فشریز ایکٹ 1971 میں غیر قانونی شکار کرنے والے ٹرالرز کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ کرنے کی تجویز حکومت کو دی گئی ہے۔‘گوادر اور لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے چھوٹے ماہی گیروں کی طویل عرصے سے شکایت ہے کہ صوبہ سندھ سے آنے والی بڑی کشتیاں بلوچستان کے علاقائی پانیوں میں داخل ہو کر گجا اور وائر نیٹ استعمال کر کے مچھلیوں اور سمندری حیات کا بے دریغ اور بے رحمانہ شکار کرتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ان کی نسل کشی ہو رہی ہے اور مقامی ماہی گیروں کا روزگار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ان کشتیوں کے لیے مقامی ماہی گیر ’ٹرالر مافیا‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں گوادر میں ابھرنے والی ’گوادر کو حق دو‘ احتجاجی تحریک کا سب سے بڑا مطالبہ بھی ٹرالنگ کو روکنے کا تھا۔ بلوچستان کے ماہی گیروں کی تنظیموں نے بلوچستان حکومت کے مجوزہ منصوبے کی حمایت کی ہے اور ساتھ ہی عملی اور نتیجہ خیز کارروائیوں پر زور دیا ہے۔ماہی گیر اتحاد گوادر کے سربراہ خداداد واجو کہنا ہے کہ ’یہ اچھی بات ہے کہ حکومت کمیونٹی کو شامل کر رہی ہے۔ باقاعدہ سسٹم ہوگا تو ماہی گیر شکایات درج کرا سکیں گے، لیکن حکومت کو چاہیے کہ کمیونٹی پولیس شروع کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ ماہی گیری کو پاکستانی بحریہ، کوسٹ گارڈ اور میرین فورس کی طرح بڑی کشتیاں، وسائل اور افرادی قوت بھی فراہم کریں۔‘’محکمہ ماہی گیری کے پاس تیس سال پرانی اور چھوٹی کشتیاں ہیں جن میں مقامی ساختہ انجن لگے ہوتے ہیں جس سے ٹرالر مافیا کی بڑی کشتیوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب یہ چھوٹی کشتیاں ٹرالرز کے قریب جاتی ہیں تو وہ اوپر سے ان پر پتھراو¿ کرتے ہیں اور برف کے ٹکڑے پھینکتے ہیں۔ بعض کے پاس تو اسلحہ بھی ہوتا ہے۔‘خداداد واجو کے مطابق ’سندھ میں پہلے ہی ٹرالر مافیا کی وجہ سے سمندری حیات تباہ ہوچکی ہے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں چھوٹے ماہی گیر ممنوعہ جال کا استعمال نہیں کرتے اس وجہ سے مچھلیوں کا ذخیرہ زیادہ ہے۔‘”ٹرالر مافیا کی نظریں اب بلوچستان کے ساحلی علاقوں پر ہیں جہاں ایسے جال کا استعمال کرتے ہیں جس میں مچھلیوں کے انڈے تک پکڑ میں آجاتے ہیں۔ اس سے سمندری حیات کی نسلیں ختم ہو رہی ہیں۔ بلوچستان کے علاقائی پانیوں میں ہر سال 4 سے 5 ہزار ٹرالرز آتے ہیں لیکن ان کو کوئی نہیں روکتا تھا۔‘ماہی گیر رہنما کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان فشریز ڈیپارٹمنٹ صرف دکھاوا کرتا ہے، گوادر، جیونی، گنزاور پسنی سمیت پورے ساحل میں گشت کے باوجود آج بھی ٹرالرز شکار کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرالرز کو روکنا حکومت کی نیت اور خواہش نہیں۔‘گوادر سے تعلق رکھنے والے نیشنل پارٹی کے سیکریٹری ماہی گیری آدم قادر بخش کا کہنا ہے کہ ’ٹرالر مافیا بہت طاقتور ہے۔ انہیں حکومت اور اسمبلی میں بیٹھے لوگوں اور محکمہ ماہی گیری کے افسران کی پشت پناہی حاصل ہے اور اس کے بدلے وہ غیر قانونی مراعات لیتے ہیں۔آدم قادر بخش کا کہنا ہے کمیونٹی پولیس پہلے ہی کام کر رہی ہے روزانہ کی بنیاد پر شکایت درج کراتے ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ محکمہ ماہی گیری کے پاس سات گن بوٹ میں سے ایک چل رہی ہے انہیں نئی اور بڑی کشتیاں دینی چاہئیں اور 6نئے اسٹیشن بنانے چاہئیں


