اسمگلنگ کے بعد چینی کی نقل و حمل پر پابندی، چمن میں لوگ مہنگے داموں خریدنے پر مجبور

کوئٹہ : اسمگلنگ کے واقعات کے بعد چمن سمیت سرحدی اضلاع میں چینی کی سپلائی پر پابندی عائد کردی گئی ،پابندی کے باعث مختلف علاقوں میں چینی نایاب ،لوگ مہینے داموں خریدنے پر مجبور ہیں ۔تفصیلات کے مطابق چمن سمیت سرحدی اضلاع میں چینی کی سپلائی پرپابندی عائد کردی گئی۔ہول سیلرز کے مطابق افغان سرحدی پاکستانی علاقوں میں چینی نایاب ہوگئی ہے اور سرحدی شہروں میں چینی 150 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔لیویز حکام کے مطابق چینی کے ٹرک مختلف مقامات پر روک دیے گئے ہیں۔ڈی سی کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ٹاسک فورس چینی سپلائی کاجائزہ لے رہی ہے۔جبکہ دوسری جانب عید قریب ہے اور بیکری آئٹمز کی تیاری میں سب سےزیادہ استعال چینی کی ضرورت ہے جو مارکیٹ میں عدم دستیابی سے عید کیلئے بیکری آئٹمز کی تیاریوں میں تاخیر کے باعث محدود فروخت کےساتھ قیمتیں بھی بڑھنے کا خدشہ ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روزوفاقی وزیرداخلہ راناثناءاللہ کا چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی سے رابطہ کیاتھا اور یوریا ،کھاد اور چینی سمیت دیگراشیائے خوردونوش کی اسمگلنگ کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تھی ۔اسماعیل ابراھیم کے مطابق چمن ضلع میں افغان بارڈرمکمل فینسنگ کے باعث غیرروائتی روٹس بندہوچکے ہیں، اس لیے اسمگلرز اب باب دوستی کے مین روٹ ہی سے ٹرکوں میں چھپ چپھا کر اسمگل کرنے کی کوشش کرتے ہے جنہیں کسٹم، ایف سی، کسٹم، این ایل سی، لیویزفورس ودیگر لا اینڈ فورسمنٹ اداروں کے باہمی کوششوں سے ناکام بنایا جاتاہے اگلے ایک دو دن میں سپلائی اور قیمتیں معمول پر آجانےکا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں