بلوچ قوم ترقی مخالف نہیں، وسائل میں حصہ دیا جائے تو مزاحمت ختم ہوسکتی ہے، ڈاکٹر مالک

کوئٹہ : نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ غیرسنجیدہ اقدامات ہمیشہ قومی معاملات کو بگاڑ دیتی ہیں،بلوچستان کے وسائل کی تقسیم اور معاہدوں کے حوالے سے آنے والے تحفظات مرکزی حکومت ہمیشہ نظرانداز کرتی رہی ہے۔ اگر سی پیک منصوبے کے حوالے سے زمینی حقائق مدنظر رکھ کر اقدامات کیے جاتے تو آج یہ حالات اتنے گمبھیر نہ ہوتے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کہتے ہیں غیرسنجیدہ اقدامات ہمیشہ قومی معاملات کو بگاڑ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ”بلوچستان کے وسائل کی تقسیم اور معاہدوں کے حوالے سے آنے والے تحفظات مرکزی حکومت ہمیشہ نظرانداز کرتی رہی ہے۔ اگر سی پیک منصوبے کے حوالے سے زمینی حقائق مدنظر رکھ کر اقدامات کیے جاتے تو آج یہ حالات اتنے گمبھیر نہ ہوتے۔ بلوچستان کے وسائل کے حوالے سے ہونے والے معاہدوں میں حقیقی قیادت کو نظرانداز کرنا حکومت کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ ڈاکٹر مالک کا کہنا تھا کہ بطور وزیراعلیٰ انہیں بھی سی پیک منصوبے کے اہم امور سے دور رکھا گیا۔ ان کے بقول،”دیکھیں بلوچ قوم ترقی کے کبھی خلاف نہیں رہی ہے۔ یہاں جو اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ان کے نتائج سے متعلق پہلے کوئی غور و فکر نہیں کیا جاتا۔ میں جب وزیراعلی تھا تو سی پیک منصوبے کے کئی اہم امور مجھے اعتماد میں لیے بغیر طے کیے گئے۔ گوادر بلوچستان کی شہ رگ ہے یہاں اس اہم ترین اسٹریٹیجک اثاثے سے جب مقامی لوگ مستفید نہیں ہوں گے تو صورتحال کس طرح بہتر اور مزاحمت ختم ہوسکتی ہے ۔”ڈاکٹر مالک بلوچ کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کے حالیہ معاہدے میں بھی حکومت نے انتہائی عجلت میں تمام معاملات طے کیے اسی لیے اس معاملے میں بھی لوگوں کے تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں