انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ کالعدم، سندھ ہائیکورٹ نے سزائے موت کے ملزم کو بری کردیا

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قتل کیس میں سزائے موت کے ملزم کو بری کر دیا۔سندھ ہائی کورٹ نے قتل کیس میں سزائے موت کے خلاف اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے ملزم رضوان علی کی سزائے موت کے خلاف اپیل منظور کر لی۔سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی۔پراسیکیوشن نے دالائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم پر 7 سال کے بچے کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا الزام تھا، بچے کی لاش ملیر ندی سے 14 جولائی 2020 کو ملی تھی۔انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو 24نومبر 2022کو سزائے موت سنائی تھی، ملزم کے خلاف کورنگی انڈسٹریل ایریا میں قتل و اغوا مقدمہ درج تھا۔ملزم کے وکیل نے کہا کہ پولیس کے پاس ملزم کے اعترافی بیان کے علاوہ ٹھوس شواہد نہیں تھے، انسداددہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں