این ایچ اے ناکام ہوگئی، بلوچستان کی شاہراہوں پر حادثات کا سدباب کیا جائے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (آن لائن) نیشنل ہائی وے اتھارٹی مکمل طورپر ناکام ہوگئی ہے سالانہ ہزاروں لوگ بلوچستان میں سڑک کے حادثات میں لقمہ اجل بنتے ہیں جوکہ تخریب کاری سے بھی ذیادہ خطرناک ہے،عوام حادثات کے نقصانات کا ایف آئی آر براہ راست نیشنل ہائی وے اتھارٹی پر درج کراہیںنیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو مکمل طورپر ناکام قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کو قومی وحدت ہی تصور نہیں کرتا جس کی واضح مثال بلوچستان کی شاہراہوں کی زبوں حالی سے لگایا جاسکتا ہے، پورے بلوچستان میں ایک ایسی شاہراہ نہیں ہے جو ڈبل کی گئی ہو سنگل شاہراہوں کی بدولت روزانہ رواد حادثات پیش آتے ہیں جن میں بیش بہا قیمتی جانوں کا ذیاں ہورہا ہے بلوچستان کی مختلف شاہراہوں پر ماہ اپریل میں 846 حادثات رونما ہوئے جن میں 22 افراد ہلاک اور 1335 افراد زخمی ہوئے، سالانہ 25سے 30ہزار افراد سڑک کے حادثات میں لقمہ اجل بنتے ہیں جو تخریب کاری میں بھی اس تعداد میں لقمہ اجل نہیں بن رہے ہیں گزشتہ سال اگست میں سیلابی ریلوں سے جو سڑکیں اور پل بہہ گئے تاحال ان پر مرمت کے کام کا آغاز ہی نہیں ہوا معمولی بارشوں سے کئی کئی دن شاہراہیں بند رہتی ہیں وفاقی حکومت کے سامنے بلوچستان کی حیثیت مقبوضہ کالونی کے سوا کچھ بھی نہیں جس سے بلوچستان کی احساس محرومی میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن اسلام آباد بہرا اور اندھا بن چکا ہے جو بلوچستان کے مسائل سے مسلسل چشم پوشی اختیار کرچکا ہے۔ مرکزی ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ شاہراہوں پر حادثات میں نقصانات کا ایف آئی آر براہ راست نیشنل ہائی وے اتھارٹی پر درج کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں