لندن، شاہ چارلس کی تاج پوشی کے موقع پر احتجاج کی پاداش میں 52 افراد گرفتار

لندن (این این آئی) برطانوی پولیس نے بادشاہ چارلس سوم کی تاج پوشی کے موقع پرنکالے جانے والے جلوس کے راستے میں احتجاج کی پاداش میں باون افراد کو گرفتارکر لیا ہے۔ان میں بادشاہت مخالف گروپ ری پبلک کے سرکردہ ارکان بھی شامل ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی پولیس نے بتایا کہ اس نے شاہ چارلس کی تاج پوشی کی تقریب کے موقع پر آپریشن کے دوران میں 52 افراد کومتعدد جرائم کے الزام میں حراست میں لیا ہے،ان میں افراتفری، نقضِ امن اورعوام کو پریشان کرنے کی سازش شامل ہیں۔لندن پولیس فورس نے ایک بیان میں کہا کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد ابھی زیر حراست ہیں۔قبل ازیں برطانیہ میں بادشاہت مخالف گروپ ری پبلک کے ایک کارکن نے لندن کے ٹریفالگر اسکوائرمیں صحافیوں کوبتایاکہ پولیس نے ہمارے چھے منتظمین کوگرفتارکیا ہے اور سیکڑوں پلے کارڈز قبضے میں لے لیے ہیں،ہمیں یہ نہیں بتایا گیاکہ انھیں کیوں گرفتارکیا ہے یاکہاں رکھا گیا ہے۔ری پبلک کے چیف ایگزیکٹوگراہم اسمتھ ان افراد میں شامل تھے جنھیں گروپ کے احتجاج سے قبل ہی گرفتار کیا گیاتھا۔انھوں نے ایسے پلے کارڈزلہرائے تھاجن پر لکھا تھا:میرا بادشاہ نہیں۔آس پاس موجود کچھ عینی شاہدین نے گراہم اسمتھ کو رہا کرو! کے نعرے لگائے۔ لیکن دوسرے لوگوں نے "خدا بادشاہ کو بچائیں” کے نعرے لگائے اور یونین کے جھنڈے لہرائے۔یورپی اتحاد برائے جمہوری تحریکیں(الائنس آف یورپین ریپبلکن موومنٹس)کے عملہ میں شامل ایک کیمرامین جائے وقوعہ پر موجود تھا اور اس نے ایک سینیر پولیس افسر سے استفسار کیاکہ گروپ کے ارکان کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے؟اس پر اس پولیس افسر نے چلتے اورچلاتے ہوئے کہا:وہ گرفتار ہیں، یہاں سے چلے جا۔لندن کی میٹروپولیٹن پولیس فورس نے فوری طورپراس معاملے پرکوئی تبصرہ نہیں کیا۔برطانوی حکومت نے لندن پولیس کو احتجاج مخالف تحریک کے خلاف کارروائی کےلیے حال ہی میں متنازع طور پرنئے اختیارات دیے ہیں۔ری پبلک گروپ نے ٹویٹر پر ان گرفتاریوں اور پلے کارڈز کی ضبطی کی تصدیق کی ہے اور یہ سوال کیا ہے کہ کیا یہ جمہوریت ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں