کوئٹہ میں پلانٹس کی بندش سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوگئے، ایس او پیز پر عمل کیلئے تیار ہیں، کریش پلانٹ یونین
کوئٹہ :آل کریشن پلانٹ ایسوسی ایشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری حاجی حسیب لہڑی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر اور گردونواح میں چلنے والے 45پلانٹ بندہونے کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں حکومت ،محکمہ معدنیات اور تحفظ ماحولیات فوری طور پر بند کریشن پلانٹ کو کھولنے کی اجازت دے ہمیں تمام ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو نائب صدر نعمان کاسی ، سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ عرف حاجی لالی ،سیکرٹری خزانہ امان اللہ اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے جہاں پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں بلوچستان کے عوام کا روزگار چندایک چھوٹے پیمانے پر انڈسٹریز سے منسلک ہے جس سے ہزاروں لوگوں کاروزگار وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن پلانٹ کے کام کیلئے حکومت اورقانون کی جانب سے ایک طریقہ کار وضح ہے جس میں کسی بھی کریشن پلانٹ کو لگانے سے پہلے بہت سے مراحل میں گزرنا پڑتا ہے جس میں سب سے پہلے محکمہ معدنیات کی جانب سے پہاڑ الاٹ کیا جاتا ہے اور لیزایگریمنٹ کے ساتھ کریشن پلانٹ بھی رجسٹرڈ کروایا جاتا ہے اسکے بعدضلعی انتظامیہ سائٹ وزٹ کے بعد تسلی کرتی ہے اور این او سی جاری کیا جاتا ہے اسکے بعدتحفظ ماحولیات کی جانب سے بھی اسی طرح کے سخٹ مراحل طے کرنے کے بعد کرشنگ کی اجازت دی جاتی ہے اجازت ملنے کے بعد سائٹ پر کریشنگ پلانٹ ،مشینری ،لیبر اورانکی رہائش کے انتظامت میں بڑی سرمایہ کاری اور محنت درکار ہوتی ہے اسکے بعد کریشنگ کا کام شروع ہوتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ تمام ترمشکلات کے باوجود تحفظ ماحولیات اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ہمیں کام کرنے سے رو ک دیتا ہے اور بار بار ہمارے این اوسی کینسل کردیتا ہے جس کے بعدہیں اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔میر حسیب احمد لہڑی نے کہا کہ کوئٹہ کے گرد تقریبا 40سال سے کرشنگ پلانٹ کام کررہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ محکمہ تحفظ ماحولیات کے قوانین کی مکمل پابندی کی ہے صرف یہی نہیں بلکہ تمام کریشنگ پلانٹ نے کبھی بھی کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ 2011ءمیں ہمارے این او سی کینسل کردیئے گئے جس پر ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس پر ہمیں 2013ءمیں اسٹے آرڈر جاری ہوا اور کیس دوبارہ ہائیکورٹ منتقل کردیا گیا گیا بلوچستان ہائیکورٹ نے جولائی2015ءمیں ہمارے خلاف فیصلہ دیا اور اس فیصلے کے خلاف ہم نے پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس پر سپریم کورٹ نے جولائی 2015ءکو فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے 8مارچ 2017کو ہماری این او سی دوبارہ ری سٹور کردیا اور ہمار کام واپس بحال ہوگیا لیکن 20جولائی 2020ءمیں محکمہ تحفظ ماحولیات نے ایک غیرقانونی اور غیرآئینی طریقہ کاراپناتے ہوئے بغیر کسی نوٹس یا شوکاز کے ہمارے این اوسی منسوخ کردیئے اور ہمارے خلاف ماحولیاتی ٹربیونل عدالت میں کیس دائر کرکے این او سی کینل کرکے کریشنگ پلانٹ کی منتقلی کا حکم دیااس حکم کے خلاف ہم نے پھر ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہائی کورٹ نے ٹربیونل کے حکم کی سراسر برعکس ہمارے خلاف فیصلہ دیا جس پر ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اوراپنا موقف بتایا جہاں تحفظ ماحولیات اور محکمہ معدنیات نے ایک اعلامیہ جاری کیا کہ تین سائٹس جس میں نوحصار اغبرگ ،،بوستان اور ڈغاری مارواڑمنتقل ہونے کا کہا گیا اورسپریم کورٹ نے 23فروری 2023کو محکمہ معدنیات کے اعلامیہ کی پاسداری کی اوراپنا حکم سنادیا۔انہوں نے کہ کہ کریشنگ پلانٹ جیسی انڈسٹری کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ایک بے حد مشکل عمل ہے جس میں سب سے پہلے بلوچستان کا قبائلی نظام ہے کہ ہم کسی اورقبائل کے علاقہ میں اپناکام نہیں کرسکتے اور جن سائٹس پر لانے کا ہمیں کہا گیا ہے وہ مٹی کے پہاڑ ہیں اور ان علاقوں میں امن وا مان کا بھی مسئلہ ہے جہاں ہماری مشینری اور مزدوروں کی جانوں کو خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ معدنیات نے بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر ایک سیفرزون بھی قائم کیا تھا جو سرہ غڑگئی اورچشمہ اچوزئی میں قائم ہوا جو مقامی قبائل کی وجہ سے ناکام ہوگیا اورپلانٹس کو کام نہیں کرنے دیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں میر حسیب احمد لہڑی نے کہا کہ پہلے جو ڈمپر15000روپے کا ملتاتھا اب وہی ڈمپر70000روپے کا مل رہا ہے اس مہنگائی کے دور میں جہاں عوام کا جینا پہلے ہی مہنگائی نے حرام کررکھا ہے وہیں اس اقدام سے عوام اپنے ذاتی گھر ہونے کے خواب کی تعبیر نہیں کرپارہے ہیں۔انہوں نے گورنر بلوچستان،وزیراعلیٰ بلوچستان ،چیف سیکرٹری ،عدالت عظمی اوردیگر حکامبالا سے اپیل کی کہ ڈیڑھ سال سے بند کریشنگ پلانٹس کو چلانے کی اجازت دی جائے تاکہ 10ہزار سے زائد بے روزگار ہونے والے افراد کو دبارہ روزگار میسرآسکے آل کریشن پلانٹ ایسوسی ایشن بلوچستان تمام ایس او پیز اور قوانین کی پاسداری کریں گے۔


