پاکستان میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث ہوگی: رپورٹ
کراچی :ایک تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تھر پارکر میں کوئلے سے بجلی پیدا کیے جانے کے نئے پلانٹس ملک میں فضائی آلودگی میں اضافہ کا باعث بنیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پلانٹس سے نکلنے والی دھویں سے قریبی آبادیوں میں سانس کے امراض بڑھیں گے اور آئندہ سالوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا اندیشہ بھی ہو سکتا ہے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جس خطے میں واقع وہاں کوئلے سے آلودگی کے اثرات کم پائے جاتے ہیں۔’سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر’ کی جانب سے جاری کردہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا شمار پہلے ہی فضائی آلودگی سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے جب کہ 2019 کی ایک رپورٹ میں نشان دہی ہوئی تھی کہ دنیا کے 15 آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سے چار پاکستان کے شہر ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آلودگی کے بڑے ماخذ میں سے ٹرانسپورٹ میں جلنے والا ایندھن، کوئلے اور فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھر، کھانا بنانے یا گرم کرنے کے لیے جلائے جانے والا گوبر، زرعی فضلہ، تعمیرات سے پیدا ہونے والی آلودگی اور شہروں میں پایا جانے والا کچرا شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنوری 2020 سے پاکستان کوئلے سے 5090 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ 95 فی صد پاور پلانٹس جو 4900 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، گزشتہ تین سال کے دوران تعمیر کیے گئے ہیں جب کہ اس طرح کے 6 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس ابھی زیر تکمیل ہیں۔


