ڈھاڈر میں لہڑی اور ابڑو قبائل کا خونی تنازعہ، جنگ بندی کی مدت میں توسیع کی کوششیں
ڈھاڈر : بالاناڑی میں لہڑی ابڑو قبائلی خونی تنازعہ کی 20مئی تک جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ ضلع کچھی کی تحصیل بالاناڑی میں ابڑو اور لہڑی قبیلے میں زمینی تنازعہ پر مسلح جھڑپوں میں خون ریزی کے بعد اس جنگ سے مزید انسانی جانوں کے نقصان سے بچنے کے لیے سادات کرام اور معتبرین نے درمیان میں قرآن پاک کے کر دونوں فریقوں کو ایک ماہ کی جنگ بندی پر رضامند کیا تھا جس پر پورے ایک ماہ کے میں پابندی سے عمل کیا گیا اور اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ جنگ بندی کی مدت میں مکمل ہونے میں صرف چار دن باقی ہیں غیر جانبدار ذرائع کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے کے بعد یہ تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتا ہے اور شدت پسند عناصر ان حالات سے فائدہ اٹھا کر ہر دو فریقین کی باہمی لڑائی کو لسانی رنگ دے کر اس جنگ کو بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ یہاں کے برادر اقوام میں نفاق اور غلط فہمیاں پیدا کرکے کشت وخون کا نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو کیونکہ اس وقت دریائے ناڑی پر رئیسانی دور حکومت میں جدید اور موثر نظام آ بپاشی کی بدولت ان علاقوں میں زرعی طور پر بہت بڑا انقلاب سمجھا جاتا ہے جس سے سا لہاسال کی قحط سالی کا خاتمہ ممکن ہوا اور بالاناڑی اور زیرینہ ناڑی میں ہر طرف لہلہاتے کھیتوں اور سبز گھاس نے یہاں کے زمینداروں کسانوں کاشتکاروں اور مال مویشی پالنے والے گلابانوں کی زندگی میں خوشحالی کا سماں باندھ دیا ہے ایسے میں اس قسم کی سازشیں نہ صرف ناڑی بلکہ پورے ریجن میں قبائلی تصادم کی راہیں ہموار کرسکتی ہیں اطلاعات ملی ہیں کہ ان چنگاریوں کو ٹھنڈا کرنے اور جنگ بندی میں توسیع کے لیے بہت سے قبائلی اور سیاسی رہنما سرگرم عمل ہیں عوامی حلقوں میں اس حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے انہوں نے بلوچستان کے اعلی پائے کے اقابرین چیف آ ف ساراوان نواب اسلم رئیسانی جام کمال خان عالیانی نواب ذوالفقار علی مگسی سادات کرام علماو مشائخ خیر خواہ سیاسی سماجی اور قبائلی شخصیات کی توجہ بالاناڑی میں پھلنے والے اس خونی کھیل کی طرف دلاتے ہوئے التجا کی کہ فوری طور پر لہڑی اور ابڑو کے تنازعہ کو روکنے کے لئے جنگ بندی میں توسیع اور اس کے مستقل حل کے لئے اپنا جدی پشتی اور اخلاقی کردار نبھا کر ضلع کچھی کے تمام قبائل کو یکجا کریں۔


