بلوچستان اسمبلی اجلاس، کوئلہ کان میں پھنسے کانکنوں کو ریسکیو کرنے کیلئے توجہ دلاﺅ نوٹس پیش

کوئٹہ (آن لائن)بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیر کو ایک گھنٹہ بیس منٹ کی تاخیر سے رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔اجلاس میںصوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے بیٹے کی ٹریفک حادثے میں وفات پر فاتحہ خوانی کی گئی ۔ایوان میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن نصر اللہ زیرے نے توجہ دلا نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر برائے محکمہ مائنز اینڈ منرل کی توجہ ایک اہم مسئلے کی جانب مبذول کروائیں گے کہ 4مئی 2023سے دکی کے علاقے میں 2کان کن کوئلہ کان میں پھنسے ہوئے ہیں مگر 11روز گزرنے کے باوجود پھنسے ہوئے کان کنوں کو ریسکیو نہیں کیا جاسکا ہے جس سے محکمہ مائنز کی بے حسی اور غفلت ظاہر ہوتی ہے ۔لہذا محکمہ مائنز نے اس بابت اب تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں تفصیل فراہم کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ لوگ کان کنی سے اربوں روپے کما رہے ہیں محکمہ مائنز بلوچستان میں موجود ہے لیکن مزدوروں کے لئے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں 11روز سے قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے دو کانکنوں کو تاحال بچایا نہیں جاسکا اب انکی زندگی کے آثاربھی معدوم ہوچکے ہیں ۔ رکن اسمبلی میر عارف جان محمد حسنی نے کہا کہ پی ڈی ایم اے اور انتظامیہ کانکنوں کو ریسکیو کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں ۔صوبائی وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میر ضیااللہ لانگو نے کہا کہ حکومت دونوں کانکنوں کو نکالنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائےگی جس پر پینل آف چےئر پرسن کی رکن شکیلہ نوید دہوار نے رولنگ دی کہ دکی میں پھنسے کان کنوں کو ریسکیو کرنے کے لئے متعلقہ محکمے اور انتظامیہ تما م وسائل بروئے کار لائیں ،بعدازاں توجہ دلاو نوٹس نمٹا دیا گیا ۔اجلاس میں پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ اسمبلی نے مردم شماری کے حوالے سے قرار داد منظور کرائی تھی کہ مردم شمار ی میں کوئٹہ کی آبادی کیساتھ زیادتی کی گئی ہے اور آج مردم شماری کا آخری دن تھا بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں قصداََ مردم شماری میں لوگوں کو شمار نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر ہونیوالی حلقہ بندیوں میں کوئٹہ کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں کم ہونگی کوئٹہ کے اب بھی ایسے حلقے ہیں جہاں مردم شماری کا عملہ نہیں پہنچاہے جانچ پڑتال کی جائے کہ کوئٹہ کی آبادی کو کیونکر کم شمار کیا گیا ہے اور اسکی تفصیلات فراہم کی جائیںایچ ڈی پی کہ رکن اسمبلی قادر علی نائل نے کہا کہ گزشتہ دنوں انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث ڈیجیٹل مردم شماری میں استعمال ہونیوالی اپلیکیشنز بھی غیر فعال ہوگئی تھیں جس کے باعث چار سے پانچ روز ضائع ہوئے ہیں اسمبلی نے قرار داد منظور کی تھی کہ مردم شماری کے عملے کو ڈبل معاوضہ ادا کیا جائے مگر اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ مردم شماری میں مزید توسیع کی جائے۔ بی این پی کے رکن اسمبلی احمد نواز بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ میں ایسے بھی علاقے ہیں جہاں اب تک مردم شماری کا عملہ نہیں پہنچ سکا ہے ۔ مردم شماری کے عملے کو نہ تو کوئی تربیت فراہم کی گئی اور نہ ہی مذکورہ ٹیب کے استعمال میں انہیں کوئی مہارت حاصل تھی سریاب کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ہے جسکی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ رکن اسمبلی عارف جان محمد حسنی نے کہا ہے کہ خاران اور واشک میں گزشتہ مردم شماری کے دوران حالات مخدوش ہونے کے باعث وہاں صحیح طریقے سے مردم شماری نہیں ہو پائی تھی تاہم حالیہ مردم شماری میں وہاں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی میر سلیم کھوسہ نے کہاکہ سیلاب سے ہونے والی تباہیوں کے باعث اب تک متاثرہ علاقوں میں معمولات زندگی بحال نہ ہوسکیں اورنہ ہی متاثرہ لوگوں کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے گزشتہ روز صحبت پور میں میر اظہار حسین کھوسہ کے علاقے میں لو کے باعث آگ لگنے سے کروڑوں روپے کی فصلیں اورچالیس سے پچاس گھر جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں جن کے پاس اب رہنے کیلئے ٹینٹ تک نہیں اور نہ ہی وہ ٹینٹ خریدنے کی سکت رکھتے ہیں آگ بجھانے کیلئے نہ ہی فائر بریگیڈ وہاں دستیاب تھی اور نہ ہی انتظامیہ کے پاس پیسے ہیں کہ وہ متاثرین کو امداد ی سامان دے۔اسی طرح محکمہ آبپاشی کی کوتاہیوں کا بھی نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پٹ فیڈر کینال 6700کیوسک پانی گزارنے کی سکت رکھتا ہے جسکی ضمانت دی جائے انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بولان، نصیر آباد، جعفر آباد میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ شاہراہوں کی بحالی کیلئے اب تک این ایچ اے نے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔ پنجرہ پل دوبارہ تعمیر ہونے سے راستہ بند ہونے کے باعث تین تین دن لوگوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے صوبائی وزیر آبپاشی محمد خان لہڑی نے کہا کہ پٹ فیڈر کینال میں 6700کیوسک پانی گزارنے کی سکت موجود ہے کینال میں اسکی گنجائش کے مطابق پانی گزر رہا ہے جبکہ کمزور پشتوں کو مضبوط کرنے کیلئے محکمہ ایری گیشن کام کررہی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیاءلانگو نے کہاکہ ہم اپنے لوگوں کی خدمت کیلئے یہاں بیٹھے ہیں سیلاب میں محکمہ پی ڈی ایم اے نے محدود وسائل میں رہتے ہوئے لوگوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا ہے وفاقی حکومت نے سیلاب میں صوبے کو ایک روپیہ تک نہیں دیا ڈونر کانفرنسز میں جمع ہونے والی رقم سے بلوچستان کو ایک پیسہ نہیں ملا۔ وفاقی حکومت نے صرف سیلاب میں ہونیوالی ہلاکتوں کے نتیجے میں ورثاکو 10/10 لاکھ روپے جبکہ صوبائی حکومت نے بھی 10/10 لاکھ روپے فراہم کئے۔ انہوں نے کہاکہ رمضان میں صوبائی حکومت نے ایک لاکھ افراد میں راشن تقسیم کیا ہے۔ بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمدشاہوانی نے کہاکہ اراکین اسمبلی کو دیئے گئے بلڈوزر گھنٹوں کیلئے فیول فراہم نہیں کیا جارہا بلڈوزر آورز کیلئے فیول فراہم کیا جائے تاکہ لوگ متاثرہ بندات کو دوبارہ تعمیر کرسکیں اور پانی کا رخ تبدیل کیا جائے ایچ ای سی نے کوئٹہ کے رورل ایریا سے تعلق رکھنے والے9یونین کونسلز کی میڈیکل سیٹیں ختم کردی ہیں انکو دوبارہ بحال کیا جائے۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی قادر علی نائل، میر عارف جان محمد حسنی نے کہا کہ بی ڈی اے کے ملازمین 8ماہ سے مستقلی اور تنخواہوں کی ادائےگی کے لئے سراپا احتجاج ہیں ایسی ہی صورتحال واساملازمین کی بھی ہے آج بھی ملازمین اسمبلی کے باہر سراپا احتجاج ہیں میر عارف جان محمد حسنی نے گرفتار پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر مبین احمدخلجی کو اسمبلی میں پیش کرنے کی تجویز بھی دی ۔ اجلاس کی صدارت کرنے والے رکن نصر اللہ زیرے نے کہا کہ کابینہ نے 2بار بی ڈی اے ملازمین کی مستقلی کی سمری منظور کی ہے ملازمین کی مستقلی کا جلد از جلد نوٹیفکیشن کیا جائے ۔انہوں نے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے واسا ملازمین کو مستقل کرنے کی بھی رولنگ دی ۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج بھٹونے کہا کہ سلیب مسیحی برداری کا نشان ہے لیکن چند روز سے فیس بک پر سلیب پر عمران خان کی تصاویر لگا کر شیئر کی جارہی ہیں جس سے مسیحی برداری کی دل آزاری ہورہی ہے لہٰذا فوری طور پر سائبر کرائم سیل اس پر کاروائی عمل میں لائے ۔اجلاس کی صدارت کرنے والے نصر اللہ زیرے نے کہا کہ تمام مذاہب قابل احترام ہیں رکن اسمبلی اس حوالے سے سائبر کرائم سیل میں رپورٹ کریں ۔بعدازاں پینل آف چےئر پرسن کی رکن شکیلہ نوید دہوار نے اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی سہ پہر3 بجے تک ملتوی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں