چیف جسٹس آپ کی ساکھ و کارکردگی پر سنگین اعتراضات لگ گئے، باعزت مستعفی ہوجائیں، امان اللہ کنرانی

کوئٹہ : سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ملک میں جاری عدالتی و پارلیمانی و آئینی سیاسی و بحران و کشمکش پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ماضی کے تجربات کی روشنی میں چیف جسٹس عمر عطاءبندیال کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس کا متن اخبارات و میڈیا کو جاری کردیا ہے جس کے مطابق جناب عزت مآب مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال میں اپنی عمر کے تجربات و وکالت تقریبا چار دہائیوں کے مشاہدات کے تناظر میں کچھ قابل عمل مشورے دینے کی جسارت کررہاہوں کہ پارلیمنٹ کی جانب سے پیر 15.5.2023کو آپ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان دراصل آپ کے خلاف عدم اعتماد کا مظہر ہے دوسری جانب ملک کی ایک درجن سے زائد مقتدر و مقبول و موثر و متحرک و جمہوری سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم جنہوں نے ملک کی سیاست و جدوجہد میں بیش بہا قربانیاں دی و حکومت و اپوزیشن کے مراحل سے گزرنے کا نصف صدی سے زائد کا تجربہ رکھتی ہیں سب نے متفقہ طور پر آپ کی حیثیت و کردار و ساکھ و کارکردگی پر سنگین اعتراضات کے ساتھ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جانبداری کی بنیاد پرآپ سے فوری استعفی کا مطالبہ کیا ہے دراصل ریاست 3تین ستون پر مشتمل ہوتا ہے جس میں مقننہ و عدلیہ و انتظامیہ شامل ہیں بدقسمتی سے ان تینوں میں اس وقت سخت تناو کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے مذکورہ بالا اقدامات انتہائی سخت و غیر معمولی و ناخوشگوار ہیں، اس صورتحال سے بچنے و ملک کے ماحول سے نکالنے کے لئے ضروری ہوگیا ہے آپ قومی مفاد میں قربانی دینے کا دل گردہ پیدا کرتے ہوئے میرا مشورہ ہے کہ اب جب آپ کی ریٹائرمنٹ میں صرف 120 دن رہ گئے ہیں جس میں سے 90 دن کیلئے گرمیوں کی طویل تعطیلات شامل ہیں، معمول کے مقدمات کی سماعت نہیں ہوسکے گی ان گمبھیر حالات،ماضی کے حالات و واقعات کے تناظر میں یاد دہانی کراتا ہوں کہ جب ملک کے مقبول سیاسی و جمہوری رہنما و طاقتور ترین وزیراعظم جناب ذوالفقار بھٹو شہید کے خلاف مارچ 1977 سے 5 جولاء1977 تک چار مہینے کے دوران ملکی حالات سنگین و مخدوش ہوگئے تو وہ مشورے کے لئے اس وقت کے عظیم مفکر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم کی ملاقات کیلئے ان کے گھر گئے اور ان سے مشورہ مانگا وہ اس مشکل میں کون سا راستہ اپنائیں مولانا صاحب نے بڑا صائب مشورہ دیا بہتر ہے آپ استعفی دیں گو انہوں نے ایسا نہیں کیا مگر بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ اگر وہ بروقت مولانا صاحب کے مشورے پر عمل کرتے تو وہ اس بھیانک کے انجام سے دوچار نہ ہوتے اسی طرح جنرل پرویز مشرف بھی جب 2007 ءمیں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کی خواہش رکھتے تھے تو اس وقت حکمران جماعت مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے انہیں مشورہ دیا کہ ایسا نہ کریں اور عزت کے ساتھ اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوجائیں مگر انہوں نے ضد و انا و جبر کے ساتھ صدارتی الیکشن لڑا اور جیتا مگر اس کا انجام اچھا نہیں ہوا، اس کے بعد وہ چندہ ماہ تک بھی صدارت کی کرسی پر متمکن نہ رہ سکے اور سنگین غداری کیس و سزا کا دھبہ سر پر سجائے دیار غیر میں سسک سسک کر جان دی حتی کہ انکا آخری دیدار و جنازہ بھی مخفی رہا، موت کے بعد بھی عوام میں شکل دکھانے کے قابل نہ ٹھیرے، آج ایسی ہی کیفیت جناب عمر عطا بندیال کی بن چکی ہے، صرف چند دنوں کی خاطر اپنی زندگی کے آخری دنوں کو ناخوشگوار نہ بنائیں ملک بھر کی بار کونسلیں آپ سے اختلاف رائے رکھتے اور کچھ مطالبات رکھتے ہیں جس کی پزیرائی نہ ہونے سے آپ کی ریٹائرمنٹ پر روایتی ریفرنس بھی متنازعہ ہوگا اور اس اعزاز سے محرومی بھی آپ کی شخصیت کو بے وزن بنادے گی، ایسی متنازعہ بقیہ زندگی گزارنے سے بہتر ہے آپ عزت و وقار کے ساتھ استعفی دیں یا چار ماہ کی رخصت پر چلے جائیں عدلیہ کے اندر بھی آپ کے رویوں سے آپ کے اپنے ہی ساتھی جج صاحبان شاکی و نالان ہیں شاید یہی وجہ ہے آپ فل بنچ کی تشکیل سے تردد کا کام لے رہے ہیں جس نے آپ کو ون مین شو کی جانب دھکیل دیا ہے جس سے عدلیہ کی بے توقیری ہورہی ہے ایک طرف ریاست کے دو ستون آپ کے خلاف فریق بن کر ڈٹ کر کھڑے ہوگئے ہیں تیسرا ستون عدلیہ مضمحل و مضطرب و منفرد و منتشر ہے ایسی فضا میں محض اپنی و انا کی تسکین کے لئے ادارے پر اپنی خواہشات کو ترجیح دے رہے ہیں جس کے مستقبل میں خطرناک و ہولناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں یا پھرآخری راستہ اعتماد سازی کا ہے یعنی 1-جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلاکر ججوں کی کمی کو دور کرنا 2-SJC کا اجلاس منعقد کرکے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنسوں کا فیصلہ،سفارشات مرتب کرنا ہے اور اس کے علاوہ 3-پارلیمنٹ کے پاس کردہ پریکٹس و پروسیجر 2023ءپر حکم امتناع واپس لیکر اس کے تین رکنی کمیٹی کا اجلاس بلاکر سپریم کورٹ میں از خود کارروائی کے مقدمات کا از سر نو جائزہ لیکر اس کے تحت 5 رکنی بنچ تشکیل دیا جائے اس قانون کے نفاذ کے بعد تمام از خود کارروائیوں بشمول SMC 1/2023 و اس پر عملدرآمد کیلئے عدالتی احکامات کو فی الوقت التوا میں ڈال کر کمیٹی کو کام کرنے دیا جائے عدالت عظمی میں فرد کی بجائے ادارجاتی عمل کو ترجیح دی جائے اس صورت میں معاملات کے اندر بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں عدالت کی عزت و وقار و تکریم میں اضافہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں