سندھ اور بلوچستان کی مٹی میں بیماریاں کی شرح بہت زیادہ ہے، طبی ماہرین

کراچی: طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کی مٹی میں بیماریاں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ فی گرام مٹی میں 10 سے زیادہ جرثومے موجود ہوتے ہیں۔ مٹی سے پیدا ہونے والے پیتھوجینز کو کنٹرول کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ جرثومے مزاحمت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر خوراک کا 1.3 بلین نقصان ہوتا ہے جبکہ پھلوں اور سبزیوں میں یہ 40 سے 50 فیصد نقصان ہوتا ہے،پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں مختلف قسم کے پھل اور سبزیاں کی اچھی پیداواری ہوتی ہیں لیکن فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کی وجہ سے پیداوار خطرے میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسکول آف پبلک ہیلتھ کے پرنسپل پروفیسر کاشف شفیق، اسسٹینٹ پروفیسر اور پروجیکٹ کی پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر حبیبہ شاہ، جامعہ کراچی کے ڈاکٹر سید محمد غفران اور ڈاکٹر وسیم عباسی اور خرم غلام حسین رودھی نے اسکول آف پبلک ہیلتھ، ڈاﺅ یونیورسٹی میں پوسٹ ہارویسٹ نقصانات کے پروجیکٹ پر اگاہی سیمینار سے خطاب میں کیا۔ ڈاﺅ یونیورسٹ نے یہ پروچیکٹ ہائر ایجوکمشن آف پاکستان کے تعاون سے شروع کیا۔ سیمینار کے انعقاد کا مقصد محقیقین، پالیسی سازوں اور طلباءوطالبات کے پوسٹ ہارویسٹ کے نقصانات سے بچاﺅ کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنا اور پروجیکٹ کے نتائج بھی پیش کرنا تھا۔ سیمینار سے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سید محمد غفران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹ ہارویسٹ نقصانات کو بہت احتیاط سے نمٹا کی ضرورت ہے کیونکہ یہ غذائی عدم تحفظ اور معاشی نقصان کے ذمہ دار ہوتا ہے۔ پاکستان کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہم جو خوراک تیار کرتے ہیں وہ محفوظ ہو اور اسے صارفین کو اسی حالت میں فراہم کیا جائے جو فصل کی کٹائی کے وقت ہوتی ہے۔ سیمینار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سیمینار سے کسانوں، پالیسی سازوں اور سائنسدانوں کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔پروفیسر کاشف شفیق نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ دنیا بھر میں فصل کے نقصانات کو حکمت عملی کے ساتھ نمٹا جاتا ہے کیونکہ یہ غذائی عدم تحفظ کو بھی دور کرتا ہے۔ انہوں نے پروجیکٹ کی پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر حبیبہ شاہ کو انتہائی اہمیت کا حامل پروجیکٹ حاصل کرنے اور اسے کامیابی سے ساتھ چلانے پر مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹر حبیبہ شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی سطح پر خوراک کا 1.3 بلین نقصان ہوتا ہے جب کہ پھلوں اور سبزیوں کا 40 سے 50 فیصد نقصان ہوتا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں مختلف قسم کے پھل اور سبزیاں کی اچھی پیداواری ہوتی ہیں لیکن فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کی وجہ سے پیداوار خطرے میں ہے۔ ان نقصانات کو روکنے کے لیے بائیو کنٹرول ایک بہت اچھا اقدام ہے جو انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ماحول کے لیے بھی محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر وسیم عباسی نے بتایا کہ پاکستان میں پودوں کے وائرس سے متعلق ڈیٹا بہت محدود ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں مٹی کی بیماریاں بہت زیادہ ہیں۔ فی گرام مٹی میں 10 سے زیادہ جرثومے موجود ہوتے ہیں۔ مٹی سے پیدا ہونے والے پیتھوجینز کو کنٹرول کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ ان میں مزاحمت پیدا کرنے اور درجہ حرارت کو زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خرم غلام حسین رودھی نے کہا کہ ناکافی انفراسٹرکچر اور موسمیاتی تبدیلیاں خوراک کے عدم تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسانوں کو اچھی قیمت میں اعلیٰ مزاحمتی طاقت کے ساتھ اچھے معیار کے مہیا کیے جائیں تاکہ پیداوار اچھی ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں