تربت میں ڈینگی کا مرض پھیلنے لگا، روزانہ 45 کیس رپورٹ، انتظامیہ کی چشم پوشی
تربت: تربت میں ان دنوں ڈینگی کا مرض ایک مرتبہ پھر زوروں پر ہے روزانہ 45کیسز رپورٹ ہورہی ہیں جس سے گوکدان ‘ ڈھنک ‘ بہمن شاہی تمپ ‘کوشقلات‘ کہن پشت‘ چاہ سر‘ کوشک ملک آباد، زور بازار، دشتی بازار، سنگانی سر، آپسر سمیت جوسک ‘ڈینگی کی لپیٹ میں ہیں اور اس مرض میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے بد قسمتی سے اس کی وجہ مناسب آگاہی اور حفاظتی تدابیر کا نہ ہونا ہے اور عام سی بیماری مہلک اور خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے مکران میڈیکل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وقار تاج اور ڈاکٹر اقبال بلوچ نے ڈینگی کی تباہ کاری پر روشنی ڈالی اور احتیاطی تدابیر بارے میں بتایا کہ دراصل ڈینگی ایک انفکیشن ہے جو ایک خاص وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے یہ بیماری ایک مخصوص مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے جس کی ٹانگیں عام مچھروں کی نسبت ذرا لمبی ہوتی ہیںڈینگی بخار عموماً ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔چار مختلف اقسام کے وائرس انسانوں میں ڈینگی بخار کا باعث بنتے ہیں ایک قسم کے وائرس کا حملہ صرف ایک بار ہی ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا ، تربت میں ڈینگی بخار کے حوالے سے آل پارٹیز کیچ کے وفد کا ایم ایس ڈاکٹر خالد بلوچ سے انکے آفس میں ملاقاتکی۔ ضلع کیچ میں ڈینگی وائرس بے قابو، بایم ایس کا روزانہ 45 فیصد تک پازیٹیو کیسز کی تصدیق کی۔ تربت کے سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں میں مریض داخل، درجنوں افراد کراچی کے اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیںہسپتال میں الگ وارڈ، ہر علاقے میں ہفتہ وار اسپرے کی ضرورت ہے، آل پارٹیز کیچ کے وفد نے ایس ای کیسکو مکران فاروق جھکرانی سے ملاقات کی، تربت سمیت ضلع کیچ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کی کمی پر تحفظات و خدشات سے آگاہ کیا۔


