سینیٹ، بزرگ والدین کا خیال نہ رکھنے والے بچوں کیلئے سزا سے متعلق بل سمیت چار بل منظور

اسلام آباد:سینیٹ نے بزرگ والدین کا خیال نہ رکھنے والے بچوں کیلئے سزا اور جرمانہ مقرر کرنے سے متعلق بل سمیت چار بل منظور کر لیئے، جن میں فوجداری قوانین (ترمیمی)بل 2019،کمپنیز (ترمیمی)بل 2019 اور اسلام آباد پیورفوڈ اتھارٹی بل 2019 شامل ہیں، بوڑھے والدین اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال سے متعلق بل کے تحت ایک کمیشن بنے گا جو از خود نوٹس بھی لے سکے گا کہ کون سا ایسا بچہ ہے جو اپنے والدین کا خیال نہیں رکھ رہا، ماں باپ اس کمیشن کو خط بھی سکتے ہیں، ٹیلی فون اور رپورٹ بھی کر سکتے ہیں،پہلے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے گی اگر وہ نہیں سمجھتے تو پھر کمیشن اس کا کیس بنائے گا، کیس فرسٹ کلاس مجسٹریٹ سنے گا اس کی اپیل سیشن کورٹ کے پاس ہو گی، 25ہزار روپے جرمانہ اور ایک مہینہ سزا ہو سکے گی۔پیر کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران سینٹر رانا مقبول احمد نے بوڑھے والدین اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال، فلاح کا بل 2019 پیش کیا۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ ہمارا بل قومی اسمبلی کی کمیٹی میں ہے، جب یہ بل آیا تھا تو ہم نے درخواست کی تھی کہ ہم سے مشاورت کرلیں لیکن ہم سے مشاورت نہیں ہوئی، ہمیں اس بل پر اعتراض نہیں ہے۔سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ اس بل پر کمیٹی کی میٹنگ ہوئی ہے یہ بہت اچھی قانون سازی ہے،سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ یہ بل کمیٹی نے پاس کیا ہوا ہے ہم نے اتنی محنت کی تمام پارٹیوں کے ممبران کمیٹی میں موجود ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے بل پر رائے شماری کرائی جس کے بعد بل کو منظور کر لیا گیا،بل کے تحت ایک کمیشن بنے گا جو ازخود نوٹس بھی لے سکے گا کہ کون سا ایسا بچہ ہے جو اپنے والدین کا خیال نہیں رکھ رہا، ماں باپ اس کمیشن کو خط بھی سکتے ہیں، ٹیلی فون اور رپورٹ بھی کر سکتے ہیں،پہلے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے گی اگر وہ نہیں سمجھتے تو پھر کمیشن اس کا کیس بنائے گا، کیس فرسٹ کلاس مجسٹریٹ سنے گا اس کی اپیل سیشن کورٹ کے پاس ہو گی،25ہزار روپے جرمانہ اور ایک مہینہ سزا ہو سکے گی، بل کے تحت معمر والدین اور بزرگوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے 6ماہ میں ویلفیئر کمیشن قائم کیا جائے گا،کمیشن بزرگ شہریوں کی معاشرتی،ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی بہبود کیلئے پالیسی تشکیل دے گا،کمیشن کے ممبران میں 60سال سے زائد عمر کے 3سینیٹرز، 3ممبران قومی اسمبلی، ایک وزیر اور ایک سیکرٹری ہوں گے،60سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کیلئے خصوصی کارڈ کا اجرا اور فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے گا،وفاقی حکومت ضرورت کے مطابق اولڈ ایج ہومز تعمیر کرے گی،بزرگوں کیلئے پارکس، لائبریری، میوزیم میں انٹری مفت ہو گی،ہسپتالوں، بینکوں اور دیگر عوامی مقامات پر ان کیلئے خصوصی کاؤنٹرز قائم کئے جائیں گے،والدین کی دیکھ بھال بچوں کی ذمہ داری تصور ہو گی، ماہانہ خرچہ بھی بچے یا قریبی رشتہ اٹھائیں گے۔اجلاس کے دوران سینیٹر میاں عتیق شیخ نے فوجداری قوانین (ترمیمی)بل 2019 پیش کیا جسے رائے شماری کے بعد بل منظور کر لیا گیا،سینیٹر غوث محمد خان نیازی نے کمپنیز ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کرنے کا بل،کمپنیز (ترمیمی)بل 2019پیش کیا جسے رائے شماری کے بعد منظور کر لیا گیا،سینیٹر سجاد حسین طوری نے اسلام آباد پیورفوڈ اتھارٹی بل 2019 پیش کیا جسے رائے شماری کے بعد پاس کر لیا گیا۔(ع ا)

اپنا تبصرہ بھیجیں