کچے میں ڈاکوﺅں کیخلاف آپریشن، سندھ اور پنجاب پولیس میں حدود پر جھگڑا
سکھر، رحیم یار خان (انتخاب نیوز) ڈاکوﺅں کیخلاف آپریشن کے دوران سندھ اور پنجاب پولیس میں حدود پر جھگڑا شروع ہوگیا۔ ضلع گھوٹکی کے کچے میں ڈاکوﺅں کے ہاتھوں 2 مغویوں کے قتل کے بعد لاشیں اٹھانے کے معاملے پر دونوں صوبوں کی پولیس میں حدود کا جھگڑا شروع ہوا۔ سندھ اور پنجاب پولیس جائے وقوعہ کو ایک دوسرے کی حدود قرار دے رہی ہیں۔ ڈاکوﺅں نے زخمی مغویوں کی ویڈیو وائرل کردی۔ ویڈیو میں مغویوں نے اپیل کی کہ وہ یہاں بہت مجبوری میں ہیں، پولیس سے کہا جائے کہ انہیں یہاں سے لے جائیں۔ رحیم یار خان پولیس کا کہنا ہے کہ جہاں مغوی قتل ہوئے وہ ضلع گھوٹکی کے تھانہ رونتی کے حدود میں ہے۔ دوسری طرف گھوٹکی پولیس کا کہنا ہے کہ جہاں ڈاکوو¿ں نے مغویوں کو قتل کیا وہ ضلع رحیم یارخان کے تھانہ ماچھکہ کی حدود میں ہے۔ رونتی کے ڈاکوﺅں نے قید سے بھاگنے کی کوشش کرنے پر 2 مغوی قتل کردیے تھے۔ جن میں سے ایک فیصل آباد کا یاسین اور دوسرا سرگودھا کا اکرام شامل ہیں۔علاوہ ازیں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) رحیم یار خان رضوان گوندل کا کہنا ہے کہ گھوٹکی پولیس کے ایک آفیسر نے تسلیم کیا ہے کہ یہ رونتی تھانے کی حدود ہے، اگر ہماری حدود ہوتی تو ہم لاشیں لے آتے۔ ڈی پی او رضوان گوندل نے کہا کہ دو مغوی اور ایک ڈاکو گھوٹکی کے تھانہ رونتی کی حدود میں ہلاک ہوئے، ہلاک ڈاکو نتھو شر ڈی ایس پی اوباڑو اور دو ایس ایچ او کے قتل میں ملوث تھا۔


