اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے خاتمے کے بغیر پاکستان کی معاشی ترقی ممکن نہیں، سینیٹر عبدالقادر
کوئٹہ (این این آئی) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و بین الاقوامی اقتصادی امور پر گہری نظر رکھنے والے زیرک سیاستدان سینیٹر عبدالقادر نے کہا ہے کہ ملک میں صرف ریئل اسٹیٹ،سگرٹ، چائے،ادویات،ٹائیر اور لبریکینٹس کے شعبوں میں 9 کھرب 56 ارب روپے کا ٹیکس چوری ہو رہا ہے جس پر قابو پا لیا جائے تو تعلیم کے شعبے کا بجٹ دس بارہ گنا بڑھایا اور مہمند ڈیم تعمیر کیا جا سکتا ہے پبلک سیکٹر کے ترقیاتی پروگرام کی کل لاگت پوری کی جا سکتی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری کی وجوہات میں کمزور قانون سازی، پراپرٹی کی خریداری میں کرپشن اور نقد لین دین جیسی خرابیاں شامل ہیں جنہیں دور کرنے کی کوششیں رشوت اور بد عنوانی کی وجہ سے ناکام ہو رہی ہیں اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے خاتمے کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ان پر قابو پانے کیلئے جس موثر خود کار نظام اور نچلی سطح پر مالیاتی اقدامات کی ضرورت ہے ان کے فقدان کی وجہ سے ملک شدید مالی بحران کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ میں دستاویزات اور قوانین کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں دور نہیں کی جا سکیں ٹائروں کی مارکیٹ کا 65 فیصد حصہ اسمگل شدہ غیر قانونی ٹائروں پر مشتمل ہے صرف 20 ٹائر مقامی طور پر تیار ہو رہے ہیں باقی غیر قانونی طور پر درآمد یا اسمگل ہو رہے ہیں چائے کے شعبے میں ٹیکس چوری 45 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ ادویات کے سیکٹر میں سالانہ 60 سے 65 فیصد ٹیکس چوری سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے اگر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے تو پاکستان آئی ایم ایف اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے چنگل اور غیر ملکی قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔


