کھاد کی مد میں ساڑھے 3 سو ارب روپے کی سبسڈی براہ راست دی جائے، کسان اتحاد

کوئٹہ (آن لائن) کسان اتحاد کے صدر خالد حسین باٹھ ،ملک عصمت ،عطا اللہ لانگو،نے وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں کسانوں کیلئے پیکچ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کھاد کی مد میں ساڑھے 3سو ارب روپے کی سبیسڈی کسانوںکو براہ راست دے کیو نکہ سیلاب نے بلوچستان میں تباہی مچائی تھی 10گھنٹے بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جائے دو یوم میں بجلی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گی تو ہم قومی شاہراہوں پر دھرنا دے کر احتجاج کریں گئے جس سے حالا ت کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگئی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کسانوں کی زبوں حالی کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی بجٹ میں کسانوں کے لئے پیکج خوش آئند ہے جس میں کسانوں کو کھاد کی مد میں ساڑھے 3سو ارب کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ اچھا اقدام ہے اس لئے حکومت اس سبسڈی کے ذریعے کسانوں کو براہ راست دے کیونکہ گزشتہ برس جس طرح سیلاب نے تباہی مچائی اس سے بلوچستان میں مسلسل 10گھنٹے بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جائے تاکہ تباہ حال کسان اپنی زراعت کو وسعت دے سکیں پانی میسر ہوگا تو کسانوں کو پھل اور سبزیوں سمیت دیگر اجناس کی کاشت کرنے میں آسانی ہوگی اور انکا روز گار بھی بحال ہوگا اور مالی مشکلات کم ہوں گی اگر ہمارے مطالبے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ہم قومی شاہراہوں پر دھرنے دے کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس سے حالا ت کی تمام تر ذمہ داری حکومتپر عائد ہوگی انکا کہنا تھا کہ فیکٹری مالکان کھاد کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں کسانوں کوآسان قرضہ اسکیم کے تحت قرضہ دیا جائے سولر اور بیٹری پر ڈیوٹی کے خاتمے کا خیر مقدم کرتے ہیں کسانوں کو 5سالوں سے 23 سو روپے والی کھاد 3سے 4ہزار روپے میں خرید کر استعمال کر رہے ہیں ٹیوب ویلز کے لئے 30 ارب مختص کئے گئے ان اعلانات پر عمل درآمد بھی کیا جائے حکومت بینک کے ذریعے کسانوں کو رقم بلاسود قرضے کے طورپر دے بلوچستان میں سیلاب نے زراعت کو تباہ کردیا ہے بجلی کی عدم فراہمی سے باغات اور فصلیں خشک ہوچکے ہیں دو دنوں میں بجلی کی فراہمی ممکن نہ ہوئی تو قومی شاہراہوں پر دھرنا دینگے بلوچستان میں زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیںبلوچستان کے لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور مال داری سے وابستہ ہے ان کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر ہمارے مطالبات تسلیم کرے تاکہ کسانوں کو ان مشکلات سے چھٹکارا دلا یا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں