دوہزار اٹھارہ میں ٹھپہ مافیاکے پیداوار اسمبلیوں اور مصنوعی قیادت نے بلوچستان کو تباہ کردیا ،نیشنل پارٹی
کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی کے ذیراہتمام غریب آباد سریاب روڈ برمہ ہوٹل پر شمولیتی پروگرام کے موقع پر بڑا جلسہ عام منعقد ہو جلسہ سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی صوبائی صدر رحمت صالح بلوچ مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ مرکزی انفارمیشن سیکریٹری اسلم بلوچ صوبائی جنرل سیکریٹری خیربخش بلوچ مرکزی خواتین سیکریٹری یاسمین لہڑی مرکزی ریسرچ سیکریٹری آغا گل کوئٹہ کے ضلعی صدر حاجی عطا محمد بنگلزئی بی ایس او پجار کے مرکزی وائس چیئرمین بابل ملک ریاض بلوچ حفیظ بنگلزئی ملک عبدالرحمان بنگلزئی نے خطاب کیا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جان محمد بلیدی نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ اپنے عوام کے سامنے اصل حقائق رکھتے ہوئے کبھی غلط بیانی نہیں کی ہے آج ہمارے اکابرین پر تاریخ اس لیے فخر کرتا ہے کہ انہوں نے کبھی دو کشتیوں کی سواری نہیں کی اپنا سیاسی موقف واشگاف انداز میں واضع رکھا اس لیے نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر میں انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا دو ہزار اٹھارہ کی ٹھپہ ماری کے ذریعے وجود میں آنے والی اسمبلیوں مصنوعی نمائندوں اور مصنوعی قیادت نے نہ صرف اسلام آباد میں بلوچ سیاست کو بے توقیر کیا بلکہ بلوچستان کی تباہی کی۔2013سے قبل سلگتے آگ میں گرا ہوا بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے سنبھال کر امن قائم کی سیاسی مذاکرات کا آغاز کرکے پرامن بلوچستان کے مستقل قیام کی طرف گامزن ہوا اب ایک بار بلوچستان کے امن کو تہس نہس کیا گیا کرپشن و کمیشن عروج پہ ہے ساحل وسائل کے تحفظ کے نام پر نوکریوں کی سرعام بولیاں ہیں اگر 2023 میں بھی دوہزار اٹھارہ کے تلخ تجربہ کو دہرا کر ٹھپہ مافیاکے ذریعے مصنوعی قیادت لائی گئی تو بلوچستان مزید تباہی کی جانب گامزن ہوگا اور اگر شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا تو نیشنل پارٹی عوامی قوت کے ساتھ آکر بلوچستان کو موجودہ بدترین صورتحال سے نکالے گا کیونکہ نیشنل پارٹی کے پاس وڑن اور ایماندار قیادت ہے جو بلوچستان کے بنیادی مسائل سے حقیقی طورپر واقف ہے اور لفاظی کے بجائے عملی طورپر کردار ادا کرنے پہ یقین رکھتی ہے رحمت صالح بلوچ نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حقیقی سیاسی نظریاتی منظم سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو بلوچستان کے مظلوم طبقات اور محکوم اقوام کی حقیقی نمائندگی کرسکے نیشنل پارٹی کی قیادت میں یہ اہلیت ہے کہ وہ یہ خلا پر کرسکتا ہے اور عوام کی سیاسی شعوری بنیادوں پر صف بندی کررہی ہے اس موقع پر بسم اللہ خان بارکزئی حاجی نادر خان بارکزئی محمد ایوب بہادر خان سلام الدین جان محمد قادر حاجی محمد ولی سید محمد اللہ یار حمید اللہ حاجی اختر بارکزئی حاجی باز محمد احمد نواز علی اصغر حسین بخش عبدالحق عبدالباری لالا بخش اعجاز بلال محمد علی حمزہ مشتاق عمر غلام علی غازی خان الطاف فیروز غلام عباس غلام نبی یاسر سلطان وحید احمد نواز احمد شاہوانی غلام فاروق لہڑی منظور احمد محمد حسنی قربان علی محمد حسنی تنویر محمد حسنی توقیر احمد محمد حسنی شیراز احمد محمد حسنی بشیرخان بنگلزئی فرمان سمالانی سمیت درجنوں سیاسی کارکنوں نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت بی این پی مینگل اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی و دیگر سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہوکر نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے۔


