پنجگور میں برسراقتدار پارٹی نے اسٹیکر کی خرید و فروخت کو کاروبار بنا لیا، نیشنل پارٹی

پنجگور (آن لائن) نیشنل پارٹی پروم کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹیکر کی خرید و فروخت اور برسراقتدار پارٹی کے ورکروں پر تقسیم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسٹیکر کی خرید و فروخت پنجگور میں ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جس سے ضلعی انتظامیہ اور برسراقتدار پارٹی کے ذمہ داران کروڈوں روپے کے اسٹیکر فروخت کرکے غریب گاڑی مالکان کو ان کی روزگار سے محروم کررہے ہیں۔ بارڈر پر رہنے والے عوام کاواحد ذریعہ معاش ایرانی بارڈر ہے اور اس پر اسٹیکر کا کاروبار کرکے لاکھوں روپے کمائے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب غریب عوام روز بروز اس کاروبار سے دور ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں، اسٹیکر کی خرید و فروخت سے سرمایہ دار طبقہ کو ایک منافع بخش کاروبار ہاتھ آیا ہے جو ضلعی انتظامیہ سے اسٹیکر خرید کر غریبوں کو تین سے چار لاکھ میں فروخت کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جس بارڈر سے غریب کچھ کنا کر اپنے آپ کو معاشی طور پر بہتر کرنے کیلئے تگ و دو کر رہا تھا ان سے ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ بارڈر چھین کر ان کو معاشی طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔ برسراقتدار پارٹی بی این پی عوامی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے صرف اسٹیکر کا سہارا لئے ہوئے ہے اور اپنے مایوس ورکرز کو اسٹیکر کا لالچ دے کر اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے رہے ہیں۔ غریب گاڑی مالکان اور بارڈر پر کاروبار کرنے والوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کی اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تاکہ ان کی روزی ان کے ہاتھ سے چلانہ جائے اور اگر اس ظلم کے خلاف وہ کھڑے نہ ہوئے تو وہ اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی سوکھی روٹی کا بندوبست نہیں کرسکتے۔ اسٹیکر کی خرید و فروخت کرنے میں انظامیہ کے اہم ذمہ داران اور برسراقتدار پارٹی کا پورا کابینہ اس گھناﺅنے کاروبار میں برابر کے شریک ہیں۔ضلعی انتظامیہ اپنا رویہ تبدیل کرے وگرنہ غریب گاڑی مالکان کے ساتھ مل کر شدید احتجاج کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں