بلوچستان میں بجلی کی بڑھتی لوڈشیڈنگ سے صارفین کو مشکلات اور کاروبار تباہ ہورہا ہے، ایوان صنعت و تجارت
کوئٹہ (آن لائن) ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے نا ئب صدر سید عبدالاحد آغا نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بجلی کی بڑھتی ہو ئی لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کی کمی پر تشویش کا اظہار کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ایک با ر پھر شدید گرم موسم اور عین زرعی سیزن میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضا فہ ما یوس کن ہے کیسکو حکام صورتحال کو نو ٹس لے کر صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فرا ہمی کے لئے اقدامات اٹھا ئے،گزشتہ روزچیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ میں بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ سمیت صو بے کے مختلف علاقوں میں ایک با ر پھر موسم گر ما میں بجلی کی لو ڈشیڈنگ اضا فہ دیکھا جا رہا ہے ایک طرف شدید گر می نے عوام کی مشکلات میں اضا فہ کردیا ہے تو دوسری جا نب رہی سہی کسر بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لو ڈشیڈنگ اور وولٹیج کی کمی نے پو ری کر دی ہے جس کی وجہ سے زرعی شعبے کے مستقبل پر ایک با ر پھر سوالیہ نشان لگ چکا ہے بلکہ صنعتکا ر ی کا شعبہ بھی مشکلا ت سے دوچار ہیں،بجلی کی لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کی کمی کی وجہ سے کو ئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ، قلا ت، قلعہ سیف اللہ،و دیگر علا قوں میں قلت آب کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے اس مسئلے کی وجہ سے صارفین کی گھریلو اور کا روبا ری زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بلو چستان میں تیز ہواوں کے چلنے یا با رش کے ہو تے ہی بجلی کی سپلا ئی بند کر دی جا تی ہے اس طرح کی صورتحال گزشتہ روز ہو نے والی با رش کے بعد دیکھنے کو ملا ایک طرف با رش شروع ہو نے سے قبل بجلی کی سپلائی بند کر دی گئی تو دوسری جا نب با رش کے بعد کم وولٹیج نے صارفین کا جینا محال کر دیا جو ما یوس کن ہے چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان مو جو دہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کر تے ہو ئے کیسکو حکام سے مطا لبہ کر تی ہے کہ وہ صورتحال کا نو ٹس لیکرصارفین کو بلا تعطل بجلی کی فرا ہمی کے لئے اقدامات اٹھا ئے تا کہ صارفین کو مشکلا ت کا سامنا نہ کر نا پڑے، ایوان صنعت و تجا رت صنعت و تجا رت،زراعت، گلہ با نی سمیت دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کو درپیش مشکلا ت کے حل کے لئے اپنا کر دار ادا کر تا رہے گا اور ہم کسی بھی صورت صنعت و تجا رت اور دیگر پیداواری شعبہ جا ت سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل پر خامو ش تما شائی نہیں بنیں گے۔


