عمران خان نے ہمیشہ جھوٹ بولا ،سچ سے کوئی تعلق نہیں، مریم اورنگزیب

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جھوٹ بولا ، انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس کا سچ کے ساتھ قریب، قریب سے بھی کوئی تعلق ہو،چاہے وہ عوامی ریلیف کی بات ہو، ایک کروڑ نوکری ہو، چاہے وہ 50لاکھ گھر ہوں، چاہے وہ کرپشن ختم کرنے کی بات ہو، چاہے ملک کے اندر ترقی کی بات ہو، پہلی تقریر میں کہا کہ بچوں کے دماغ چھوٹے رہ گئے ہیں پھر وہ دماغ انہیں بھول گئے، انہوں نے اپوزیشن کو بدنام کرنے ، پراپیگنڈاورغلط کیسز بنانے کی پوری یلغار کی۔کیس اسٹڈی کروانی چاہیے کہ کس طرح ایک شخص نے پراپیگنڈا ٹول کے ذریعہ جھوٹ بول کر، نفرت پھیلا کر، فساد اورانتشار کا بیانیہ بنا کر کس طرح ملک کی چار سال تباہی کی۔ ان خیالات کااظہار مریم اورنگزیب نے سرکاری ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ میں آتے ہی بطور وزیر اطلاعات پیمرا قانون میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کے کنسیپٹ کو قانونی طور پر متعارف کروایا ہے اور یہ پوراقانون پارلیمنٹ میں جارہا ہے۔ فیک نیوز صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے، یہ کوئی سیاسی بات نہیں کیونکہ سیاست بہت اچھی چیز ہے جب تک سیاست مثبت ہو اور عوام کی خدمت کے لئے ہو اورملک کی ترقی کے لئے ہو۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ فرانس جیسے ملک میں یوٹیوبرز اور وی لاگرز کے ذریعے اور ایک ایجنڈا کے زریعے فیک نیوز پھیلانے کی وجہ سے پابندی لگادی۔میں بالکل اس کے حق میں نہیں ہوں کہ چیزوں کو بند ہونا چاہیے، ان چیزوں کو رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنا سائیکل آف ایولوشن مکمل کر کے خود بخود یہ چیزیں ٹھیک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی اس کے اقدامات سے ہوتی ہے، ہم نے آتے ہی پیمراقانون میں اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ میڈیا ذمہ داری کی طرف جارہا ہے، اگر آپ نے جھوٹ کو چلایا، جھوٹ کو بڑھایا، جھوٹ بول، بول کر لوگوں کے دماغ میں ایک ذہن سازی کی، اس کا نقصان ہی ہوا اوراس نقصان کا خمیازہ پاکستان کی عوام نے بھگتا ، جھوٹ نے ایک نہ ایک دن بے نقاب ہوناہوتا ہے اور مکافات عمل نے قدرتی طریقہ کے ساتھ نظرآناہوتا ہے اوروہی آج ہم دیکھ بھی رہے ہیں، یہ ہم سب کے لئے سبق ہے کہ آج آپ جھوٹ تو بول لیں گے اور لوگوں کو بے وقوف بنالیں گے لیکن آپ ہر وقت ہر کسی کو ہر ٹائم کے اوپر بے وقوف نہیں بناسکتے، اگر ہم اس معاملہ کو انفرادی سطح پر سمجھ لیں گے تواجتماعی فرق ضرورآئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں