لوکل گورنمنٹ کو فنڈز اور بلدیاتی اداروں کو مالی اختیارات دیے جائیں، اراکین بلوچستان اسمبلی
کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے پالیمانی سیکرٹری بشریٰ رند نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مشکلات کے باوجود بہترین بجٹ پیش کیا ہے خامیاں ہر محکمے میں ہوتی ہیں اب بھی بہت سے علاقوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں سیکڑوں نئے اسکولوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کا منصوبہ شامل کیا ہے، صحت کے شعبے کے لئے خطیر رقم رکھی ہے ادویات کی خریداری کے لئے 4.8ارب روپے مختص کئے ہیں عوامی انڈومنٹ فنڈ، صحت کارڈ، کوئٹہ و گوادر میں خواتین کے لئے پولیس اسٹیشنز کا قیام اور دیگر منصوبے اسی حکومت کی کارکردگی ہیں ۔حکومت نے کم وسائل میں ہر شعبے پر توجہ دی ہے بجٹ کوسراہنے کی ضرورت ہے ۔اجلاس میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پشتونخوا میپ کے رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے نے کہا کہ گزشتہ روز یعنی 21جون کو پشتونخوا میپ کے رہنما شہید عثمان خان کاکڑ کی دوسری برسی منائی گئی اس سلسلے میں کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں ایک پروقار جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میںہزاروں افراد نے شریک ہوکر اپنے محبوب رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا انہوں نے کہاکہ شہید عثمان خان کاکڑ پی ڈی ایم کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن تھے کم از کم پی ڈی ایم اپنی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن کے قتل کی تحقیقات کرائے انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ نے بھی وزارت خارجہ کو شہید عثمان خان کاکڑ کے قتل کی تحقیقات کیلئے مراسلہ ارسال کیا ہے۔ اس سلسلے میں پشتونخوا میپ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کو بھی خطوط ارسال کئے ہیں انہوں نے کہاکہ شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت مظلوم و محکوم اقوام کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے انہوں نے کہاکہ رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے خاندان نے تخریب کاری کے خلاف سترہ سے زائد افراد کی قربانیاں دی ہیں وانا کا نصف قبرستان انکے خاندان کے لوگوں سے بھرا ہوا ہے انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز علی وزیر کو دو بارہ گرفتار کیا گیا ہے علی وزیر پر امن احتجاج کررہے تھے جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کیا گیا رکن قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر قومی اسمبلی کے ممبر کی گرفتار پارلیمنٹ اور اسپیکر کی توہین ہے انہوں نے کہاکہ پشتونخواہ میپ کے خیبر پختونخواہ کے صوبائی نائب صدر بہادر شیر افغان کے خلاف بھی تخریب کاری کے دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں جن کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ نصر اللہ زیرے نے سالانہ میزانیہ بابت مالی سال 2023-24پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ آئندہ مالی سال کے 750ارب روپے کے بجٹ میں 49ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے بجٹ میں ترقیاتی مد میں انتہائی کم پیسے رکھے گئے ہیں زراعت، فشیریز، جنگلات، لائیو اسٹاک کیلئے بھی بجٹ میں انتہائی کم پیسے رکھے گئے ہیں موسیٰ خیل کی لائیو اسٹاک کی مد میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی انہوں نے کہاکہ جامعات کیلئے بھی بجٹ میں انتہائی کم رقم رکھی گئی ہے ڈھائی ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ہی ناکافی ہیں انہوں نے کہاکہ کوئٹہ شہر کی آبادی کو مردم شماری میں کم ظاہر کیا گیا ہے اس مردم شماری کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے انہوں نے کہاکہ عمارتیں بنانے سے علم نہیں آتا بلکہ اساتذہ کے پڑھانے سے معاشرے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم میں اساتذہ اور ملازمین کی کمی کو بی نوٹ کیا جائے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کو کچھ نہیں دیا جب بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کو نظر انداز کئے جانے پر حکومت سے راہیں جدا کرنے کی دھمکی دی تو وفاقی حکومت نے فوراً 25ارب روپے سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے رکھے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے سیلاب متاثرین کو بھی ریلیف فراہم کیا جائے صوبے کے ذمہ داروں کو بجلی کے مد میں ریلیف دیا جائے لوکل گورنمنٹ کو فنڈز فراہم کئے جائیں اور بلدیاتی اداروں کو مالی اختیارات دیئے جائیں مائنز اینڈ منرلز ڈپارٹمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ماہی گیری ماحولیات صحت کے شعبوں کو ترجیح دی جائے۔ اجلاس میں پشتونخواءمیپ کے رکن نصر اللہ زیرے نے کہا کہ بجٹ میں عوام کا پیسہ ہوتا ہے ملی شہید کے نام سے ریسرچ سینٹر کے قیام سے لوگ وہاں آئیں گے اور تحقیق کریں گے۔


