بلوچستان کی شاہراہوں پر ڈاکوﺅں کی لوٹ مار معمول بن گئی، حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرے، بی این پی
کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی ترجمان انور بلوچ نے نوتال کے قریب کوئٹہ سے اوستہ محمد، شہدادکوٹ سندھ جانے والی کوچ پر ڈاکوو¿ں کی فائرنگ اور آئے روز مین شاہراہ پر نہتے شہریوںسے لوٹ ماراور قاتلانہ حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں نامعلوم مسلح افراد کا راج بڑھتا جا رہا ہے جو دن دہاڑے کسی کو بھی لوٹ اور قتل کرکے آسانی سے فرار ہو جاتے ہیںبلوچستان میں امن و امان، قتل و غارت، ٹارگٹ کلنگ، زمینوں پر قبضہ کرنے کی صورتحال دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ بلوچستان بھر میں نامعلوم افراد چوری، ڈکیتی، زمینوں قبضہ سمیت لوگوں کو اغواءاور قتل کرنے میں ملوث ہیں جو کسی بھی شہر و کوچے کے بیچوں بیچ کاروائی کرکے پولیس، لیویز اور ایف سی کے چیک پوسٹوں کے سامنے سے باآسانی فرار ہو جاتے ہیں اور ان کے خلاف ایکشن یا تحقیقات بھی نہیں ہوتی ہیں بلوچستان کے خسارہ پیش کردہ بجٹ میں سیکورٹی اور امن و امان کے لئے خطیر رقم مختص کرکے کرپشن کی نظر کرتے ہیں جو بلوچستان کی پسماندگی میں مزید اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ انور بلوچ نے کہا کہ گزشتہ دنوں زمینی معاملات پر خواتین پر گولیاں برسائی گئیں لیکن مجال ہے انتظامیہ حرکت میں آئی ریاست کے اندر ریاست کا تصور شہری اور ریاست کے رشتے کو کمزور کرنے کی مترادف ہے حیرت کی بات ہے ضلعی انتظامیہ کی موجودگی میں چادر و چار دیوار کی پامالی کرکے خواتین کو زخمی کردیا گیاگزشتہ شب ڈاکوو¿ں نے کوئٹہ سکھر انتہائی مصروف شاہراہ پرمسافر کوچ پر فائرنگ کرکے چارافراد کو زخمی کردیا اور مسافرکوچ میں لوٹ مار کی لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی، انتظامیہ کی م±سلسل غفلت برتنے پر شہریوں کا جان و مال خطرے میں ہے ترجمان نے کہا کہ چند مہینوں سے تواتر کے ساتھ نصیرآباد ڈویژن کے مختلف اضلاع میں درجن بھر واقعات ہوئے لیکن حکام بالا ، ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ خواب غفلت میں مبتلا ہے جہاں نہتے شہریوں کو سر عام لوٹنا و قاتلانہ حملوں میں زخمی کرنے کا معمول کے ساتھ ہونا حکومت، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ترجمان نے کہا کہ مسافر کوچ پر ڈاکوو¿ں کے حملے سمیت دیگر ایسے غیر انسانی و غیر آئینی حملوں کے روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیںبلوچستان بھر میں بدامنی اور انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کی بی این پی عوامی مذمت کرتی ہے اور حکومت وقت سے شہریوں کی تحفظ کا مطالبہ کرتی ہے۔


