نظریاتی کارکن پیپلز پارٹی کی دوغلی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا، سمندر خان کاسی

کوئٹہ (آن لائن) ممتاز قانون دان قبائلی و سماجی پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماءملک سمندر خان کاسی ایڈووکیٹ نے پیپلزپارٹی سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی دوغلی سیاسی پارٹی کا کوئی ذی شعور نظریاتی، فکری اور جمہوری اقدار سے واقف سیاسی کارکن اس وقت پیپلزپارٹی کے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کے فرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیانات فعل اور عمل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اپنے ذاتی اور پارٹی مفادات اور پسند کی شخصیات اور سیلات میں پیسے نہ دینے پر پی سی بی کے چیئرمین کےلئے اتحادی حکومت میں بلیک میلنگ جمہوری اقدار کی سراسر نفی ہے لیکن سویلین کا ملٹری کورٹ میں مقدمات پر خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، جو پیپلز پارٹی کے ایک نظریاتی اور فکری سیاست کرنے والے بالکل متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ صحیح بات ہے کہ سابق وزیراعظم عمران نیازی کے ہوتے ہوئے ملٹری کورٹ میں سویلین پر مقدمات اور سزائیں ہوئی ہیں۔ اس وقت عمران نیازی اور اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ خاموش تماشائی اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھے ہوئے تھے، آئین اور قانون سب کے لیے جو عمران نیازی خود کہتے تھے مگر عمران نیازی خود یہ ملٹری کورٹ میں مقدمات دیکھ رہے تھے مگر آج عمران نیازی خود پھنس گئے ہیں تو ملٹری کورٹس میں سویلین کے مقدمات ناجائز نظر آرہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو جب نوکری مل گئی تو سول ملازمتوں میں بھی اسٹیبلشمنٹ کو عمل دخل کا موقع دیا گیا، ہمارے سیاستدان جب سیاسی بےروزگاری ہوتے ہیں تو انقلابی ہوتے ہیں جب بھی معمولی نوکری مل جاتی ہے تو سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے، 9 اور 10 مئی کے واقعات کو کوئی ذی شعور مذمت کئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر ریاست ہرفرد شہری کا حق ہے جتنا ریاست کے اداروں کا ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے مفاد کے لئے اغواءبرائے تاوان والوںکو حسن کارکردگی کی شیلڈ‘ انعامات دے اور ماورائے آئین و قانون گمشدگیوں میں خود ملوث ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں