حکومتی عدم توجہ، پنجگور میں گزشتہ سال کی بارشوں اور سیلاب متاثرین کی تاحال بحالی نہ ہوسکی

پنجگور (یو این اے) پنجگور میں گزشتہ سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب متاثرین کی تاحال بحالی نہ ہوسکی، پنجگور بارشوں سے شہر کے مختلف علاقوں میں لوگوں کے کچے مکانات چار دیواری گرگئے اور لوگ بے یار و مددگار ہیں جبکہ گزشتہ سال ڈیڑھ ماہ کے بارشوں کی وجہ سے پنجگور میں 16 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں سینکڑوں کچے مکانات اور دیواریں گرگئے کھجور کی فصل مکمل ضائع ہوگئی تھی جس سے علاقے کے لوگوں کو اربوں روپے نقصانات کا سامنا ہوا۔مگر ایک سال گزرنے کے باوجود تاحال حکومت کی جانب سے متاثرین کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا البتہ سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے 10/10 لاکھ روپے کے امدادی چیک دیے گئے جبکہ سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے تاحال کوئی ریلیف نہیں مل سکا، حالیہ بارشوں سے بھی لوگوں کے درجنوں مکانات اور دیواریں گرگئے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان کو چاہیے کہ پنجگور کے سیلاب زدگان کی بھی مدد کرے، پنجگور اور دوسرے علاقوں میں صرف ایک فرق ہے کہ سیلابی ریلے کے بعد پانی مہینوں تک نہیں رکتا جبکہ حکومت صرف ان علاقوں پر توجہ دے رہی ہے جہاں پانی مہینوں تک رکا رہتا ہے، جس پر پنجگور کے سیلاب متاثرین کو حکومت کی جانب سے مکمل نظر انداز کردیا گیا ہے جبکہ دوسرے علاقوں میں اقوام متحدہ سے لیکر حکومتی اداروں تک گزشتہ سال سے کیمپ کرکے بیٹھ گئے، علاقے کو آفت زدہ قرار دیا گیا تھا مگر صرف کاغذوں کی حد تک تھا۔ پنجگور کے سیلاب متاثرین ایک سال سے امداد کے منتظر ہیں کہ حکومت امداد فراہم کرے تاکہ وہ اپنے گرے ہوئے مکانات اور دیواریں دوبارہ سے تعمیر کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں