سرکار، سردار اور بلوچ

تحریر: جیئند ساجدی

روزنامہ ڈان کے لکھاری اکبر نوتیزئی کی ایک تحقیقی رپورٹ گزشتہ روز ڈان میں شائع ہوئی ہے، جو بلوچستان بالخصوص کوہ سلیمان کے سرداری نظام کے متعلق لکھی گئی ہے، اس رپورٹ کو لکھنے کے لیے لکھاری نے خود کوہ سلیمان کے ضلع بارکھان کا دورہ کیا اور سیکورٹی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے خودکو صحافی کے بجائے زراعت کے شعبہ سے وابستہ ایک تحقیق کار بتایا۔ انہوں نے متعدد لوگوں کا انٹرویو کیا جو سردار کھیتران کی نجی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں اور مختلف اذیتوں سے دو چار ہوچکے ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ کے نتائج سے شاید وہ لوگ جن کو بلوچستان کے حالات کا ادراک ہو ان کے لیے کوئی تعجب کی بات نہیں، اسی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور صوبے کے اہم عہدوں پر فائز عہدیداران کو اس بات کا علم ہے کہ بارکھان سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نجی جیلیں ہیں لیکن اس کی روک تھام کے لیے انتظامیہ اور حکومت کوئی عملی اقدامات کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ افسران جو سردار کھیتران کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کرتے ہیں ان کا جلد ہی وہاں سے تبادلہ کردیا جاتا ہے اس کی وجوہات کے متعلق اکبر نوتیزئی لکھتے ہیں کہ سردار کھیتران ان سرداروں میں سے ہیں جو سرکار کے حمایتی ہیں اور مری بگٹی علاقے کے برعکس انہوں نے بلوچ قوم پرستی کی لہر کو بارکھان میں روکے رکھا ہے۔ سرکار کو یہ خوف ہے کہ اگر سردار کھیتران کیخلاف کوئی کارروائی کی گئی تو علاقہ بلوچ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں جاسکتا ہے، اس بات کا علم غالباً سردار کھیتران کو بھی ہے اور متعدد مرتبہ اسمبلی کے فورم پر بھی وہ قوم پرستوں کی مخالفت اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں کو چیلنج دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، ان کی تقاریر کا مقصد مقتدرہ کو اپنی وفا داری اور اہمیت دکھانا ہے۔
بلوچستان میں سرکار اور سردار کا گٹھ جوڑ کوئی نئی بات نہیں، اس کی ایک پرانی تاریخ ہے اور اس کی کڑیاں انگریز سامراج سے جاملتی ہیں۔ 1870ءکی دہائی میں سنڈیمن نامی ایک انگریز فوجی افسر نے بلوچ سرداروں کو ریاست کے حکمران یعنی خان قلات کیخلاف استعمال کرنا شروع کیا، یہ سامراجی قوتوں کا طریقہ کار رہا ہے کہ مفتوحہ علاقے میں اپنے پنجے گاڑنے کے لیے انہوں نے مقامی اشرافیہ کا استعمال کیا اور کبھی کبھی جعلی مقامی اشرافیہ بھی تشکیل دی ہے۔ بلوچستان میں خان کو کمزور کرنے کے لیے انگریز سرکار نے ان سرداروں کو استعمال کیا اور 1876ءکے معاہدے کے تحت یہ اندراج کروایا کہ اگر مستقبل میں خان اور بلوچ سرداروں کے درمیان کوئی اختلافات پیدا ہوں گے تو برطانیہ اس میں ثالثی کا کردار ادا کریگا، لہٰذا سرداروں کی غداری کی وجہ سے انگریزوں کے پنجے بلوچستان میں مضبوط ہوگئے تھے اور خان کی حیثیت ایک کٹھ پتلی حکمران جیسی ہوگئی تھی۔ سنڈیمن نے سرداروں کو اپنا وفا دار بنانے کے لیے کئی اور اقدامات کیے جیسے کہ سرداری نظام اس سے قبل بلوچوں میں موروثی نہیں ہوا کرتا تھا اور بعض بلوچ دانشور یہ لکھتے ہیں کہ بلوچ قبیلے اپنے سردار جمہوری طریقے سے منتخب کرتے تھے لیکن سنڈیمن نے اس کو موروثی بنا دیا، اس کے علاوہ سرداروں کے اختیارات میں بھی کافی حد تک اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے سرداروں کا وظیفہ مقرر کیا تھا اور ان کو پرائیویٹ ملیشیاءلیویز فورس کی شکل میں عطاءکی جس کی وجہ سے وہ اپنے قبیلے پر ظلم کرتے تھے۔ سرداروں کو امن وامان قائم کرنے کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں غالباً سرداروں کی نجی جیلیں بھی اسی لیے عمل میں لائی گئی ہوں گی۔ ان مراعات کی وجہ سے سردار برطانوی سرکار کے تابعدار اور اپنے لوگوں کے سنگین دشمن بن گئے تھے، ان کو یہ علم ہوگیا تھا کہ جب تک برطانوی سرکار حکومت کررہی ہے اس وقت تک ان کے وظیفے جاری رہیں گے۔ ایک دانشور اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ جن لوگوں کو وظیفے کی عادت پڑ جائے تو وہ کبھی بھی انقلاب کی حمایت نہیں کرسکتے۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی اشرافیہ نے عام بلوچوں کو ان کے سیاسی اور معاشی حقوق دینے کے بجائے انگریزوں کی پالیسی کو جاری رکھا کیونکہ پاکستانی اشرافیہ بھی قیام پاکستان سے قبل انہی سرداروں کی طرح برطانیہ کی فرمانبردار رہی تھی اور اس اشرافیہ نے حکمرانی کا طرز اپنے انگریز آقاﺅں سے سیکھا تھا۔ سردار اور سرکار کے گٹھ جوڑ کی نشاندہی بی ایس او اور نیپ سے تعلق رکھنے والے چار روشن خیال بلوچ رہنماﺅں نے کی تھی جن میں سے تین خود سردار تھے جیسے کہ سردار عطاءاللہ مینگل، نواب خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو اور نواب اکبر بگٹی۔ اس عمل کی وجہ سے سردار کھیتران کے برعکس ان چار رہنماﺅں کو متعدد دفعہ جیل بھی جانا پڑا۔ امریکی صحافی سیلگ ایریسن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے اس وقت کے بی ایس او کے چیئرمین خیر جان بلوچ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ ”آپ کی تنظیم سرداروں کیخلاف ہے لیکن ان تین سرداروں کی حمایت آپ کیوں کرتے ہیں، تو ان کا جواب یہ تھا کہ یہ روشن خیال سردار ہیں، اب کوئی روشن خیال ہو اور سردار بھی تو ہم انہیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ ہماری جدوجہد میں ہماری مدد نہیں کرسکتے کیونکہ آپ سردار ہیں“۔ 1970ءمیں جب سرکار کے بقول ان بُرے سرداروں کی حکومت بلوچستان میں قائم ہوئی تو وہ چھے ماہ سے زیادہ چل نہیں پائی کیونکہ انہوں نے متقدرہ اور بھٹو کی ڈکیٹشن ماننے سے انکار کیا تھا اور سرداری نظام کیخلاف اسمبلی میں قرار داد بھی پیش کی تھی کہ اسے کالعدم قرار دیا جائے لیکن بھٹو نے اس قرار داد کو پاس نہیں ہونے دیا، جب ان بُرے سرداروں کی حکومت ختم کی گئی تو وزیراعلیٰ کے عہدے پر ایک اچھے سردار جام غلام قادر کو فائز کیا گیا اور گورنر کے عہدے پر نواب اکبر بگٹی کو۔ نواب اکبر بگٹی ایک دور اندیش شخصیت تھے، ان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ مقتدرہ اقتدار کے عوض ان کا استعمال کررہی ہے، اسی لیے انہوں نے جلد ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا، اس کے بعد بلوچستان میں زیادہ تر حکومتیں ان کی چلتی تھیں جو مقتدرہ کے وفا دار تھے۔
2003ءکے بعد جب بلوچستان میں شورش نے جنم لینا شروع کیا تو سرکار نے سرداروں کو الگ طریقے سے استعمال کرنا شروع کیا۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بلوچ شورش کوئی عوامی تحریک نہیں بلکہ چند سرداروں کی تحریک ہے اور پروپیگنڈہ کو پروان چڑھانے کے لیے انہوں نے مین اسٹریم میڈیا کا بھی استعمال کیا اور میڈیا اشرافیہ سے ڈکٹیشن لیتے ہوئے یہ پیش کرتا رہا کہ بلوچ شورش میں ملوث چند ملک دشمن سردار ہیں جو بین الاقوامی ریاستوں سے فنڈنگ لیتے ہیں وہ ترقی اور تبدیلی مخالف ہیں اور بلوچستان کی پسماندگی کے اصل ذمہ دار ہیں اور ان پڑھ بلوچوں کو یہ سردار اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ سرداروں کا منفی کردار پیش کرنے کے بعد متقدرہ نے بلوچستان میں جتنے بھی اصلی و جعلی سرینڈرز کی تقریبات کیں تو سردار وں سے ان تقریبات کی سرپرستی کرواتے رہے اور ان کو فوٹو سیشن کا بھی حصہ بناتے رہے۔ اس طرح متقدرہ نے سرداروں کا کردار ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان میں بھی منفی پیش کیا اور اب سردار نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔ ایسا لگتا ہے کہ عنقریب سرکار سردار کے متعلق اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کریگی جب تک شورش جاری رہے گی تب تک سرکار سرداروں کو مزید نوازتی رہے گی اور اگر اس شورش میں تیزی آئے گی تو سرکار کی نظر میں سردار کی اہمیت اور بڑھے گی۔ سرکار کے علاوہ پاکستان کا حب الوطن میڈیا بھی بلوچستان کے متعلق اپنا رویہ تبدیل نہیں کریگا اور بلوچستان کا وہی چہرہ وہ عوام کو دکھائے گا جس کا اسکرپٹ ان کو اشرافیہ دے گی کہ بلوچستان میں مسئلے کی اصل جڑ سردار ہیں، آج ہی پاکستان کے سب سے لبرل سمجھے جانے والے روزنامہ ڈان میں اکبر نوتیزئی کی رپورٹ کے متعلق ایک ادرایہ شائع ہوا ہے اور ڈان نے بھی اسی اسکرپٹ کی پاسداری کی ہے۔ انہوں نے سرکار اور سردار کے گٹھ جوڑ کے بجائے عام بلوچوں کی توہین کی ہے اور یہ لکھا ہے کہ سردار بلوچوں کا استحصال اسی لیے کرتے ہیں کیونکہ بلوچوں میں تعلیم کا فقدان ہے، یہ وکٹم بلائننگ (Victim Blaming) کے دائرے میں آتا ہے کہ آپ ظالم کے بجائے مظلوم پر ہی تنقید کریں حالانکہ یہ اداریہ ان کے اپنے ہی اخبار میں چھپی تحقیقی رپورٹ اور اداریے کی نفی کرتا ہے جس میں مدیر خود لکھتے ہیں کہ سرداروں کو اداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔ ایک اور مضحکہ خیز بات ڈان کے اداریے میں یہ تھی کہ نام نہاد بلوچ قوم پرست پارلیمانی جماعتیں سرداری سسٹم کا خاتمہ کرنے میں کردار ادا کریں اور بلوچوں کی آواز بنیں۔ سرکاری سرداروں کی طرح بلوچ پارلیمانی جماعتیں بھی اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ جہاں تک سرداروں کے رویے کی بات ہے تو وہ بھی اپنا رویہ تبدیل نہیں کریں گے اس کی پیشگوئی بہت پہلے ہی ایک بلوچ قوم پرست رہنماءاور دانشور گل خان نصیر نے ان الفاظ میں کی تھی ”سرداروں کی سدھرنے کی کوئی امید نہیں ہے۔۔۔۔“۔

اپنا تبصرہ بھیجیں