کوئٹہ میں سنی علماءکونسل کے زیر اہتمام مدح صحابہؓ ریلی، یوم شہادت عمر فاروق پر عام تعطیل کا مطالبہ

کوئٹہ (آن لائن) سنی علماءکونسل کوئٹہ بلوچستان کے امیر مولانا رمضان مینگل، علامہ عبدالرحیم ساجد اور دیگر علما کرام نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ہمارے مطالبات پر عمل درآمد کیا جائے بصورت دیگر ہم 7محرم کو بلوچستان بھر میں اور 10محرم کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کریں گے۔ جلوس کا سیکورٹی فراہم نہ کر نے پر ایس پی سیکورٹی اور ایس پی سٹی سیکورٹی کو معطل کیا جائے یہ بات انہوں نے جمعرات کو یکم محرم الحرام خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا عمر فاروق ؓ کی یوم شہادت مد صحابہ مطالباتی حوالے سے نکالی گئی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر قاری محمد سلیم فاروقی، مولانا مقبول الرحمن شاہ، سردار نصرالدین اچکزئی حافظ محمد قاسم فاروقی، مفتی کلیم اللہ حیدری، محمد کامران سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے ریلی کے شرکاءسے خطاب کر تے ہوئے مولانا رمضان مینگل نے کہا کہ ہم روز اول سے ہی یکم محرم الحرام کو حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کے موقع پر چھٹی اور دیگر مطالبات کے حوالے سے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے آج ریلی کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی سیکورٹی کی عدم فراہمی کی وجہ سے پہلے بھی ہمارے جلوس پر حملہ ہوا جس میں ہمارے 11ساتھی شہید ہوئے، اس کے علاوہ کوئٹہ میں مولانا کریم مینگل سمیت 40علما کرام کو شہید کیا گیا تاحال انتظامیہ اور ارباب اختیار کی ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے خاموشی باعث تشویش ہے ہم نے ہمیشہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا ہے ہماری کوشش ہے کہ محرم الحرام کا مہینہ امن آمان سے گزرے ہم نے کوشش کی کہ پولیس اور اداروں سے امن کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں لیکن انتظامیہ اور پولیس کے اعلی حکام کی جانب سے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے حالات کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے انہوں نے کہا کہ آج کے ریلی کی سیکورٹی اور مطالبات کے حوالے سے پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کئے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی مقررین نے کہا حکومت چیف سیکرٹری بلوچستان ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ آئی جی پولیس آئی جی ایف سی اور دیگر حکام سے اپیل کی ہے کہ وڈھ کے حالات کی سینگینی کو محسوس کرتے ہوئے دونوں فریقین کے مابین جھگڑے کو مل بیٹھ کر حل کریں ہمارے لئے سردار اور میر دونوں قابل احترم ہیں ہم نہیں چاہتے کہ حالات خران ہوں سانحہ ژوب اور لورالائی میں مسجد اور قرآن پاک کو جلانے کی واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے محرکات کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں سزا دی جائے انکا کہنا تھا کہ وڈھ بلوچستان کا پسماندہ علاقہ ہے وہاں کے حالات کو خراب کرنا دونوں فریقین کے حق میں نہیں حکومت اور انتظامیہ کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں تاکہ جنگ اور فساد کو روکا جا سکے انکا کہنا تھا کہ ہم صحابہ کی عظمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے کیونکہ ہم صحابہ کی عظمت کے وارس ہیں اور ان کے لیئے پہلے بھی قربانی دیتے رہے ہی ہیں اور آئندہ بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گئے اپنے مطالبات کے حق میں 7محرم کو بلوچستان بھر میں احتجاج اور 10محرم کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کریں جس سے ہر قسم کے حالات کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں