طاقتور قوتوں کیلئے ہمارے وسائل تک پہنچنے کا نزدیک اور سستا راستہ گوادر کی بندرگاہ ہے، محمود خان اچکزئی

پشین : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی نے پارٹی ضلع پشین کانفرنس کے اوپن سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ، چین ، روس ، ہندوستان اور سب نے ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا اور اپنے معاملات افہام وتفہیم سے طے کرنے ہونگے، ہمارا خطہ اور اس کے ممالک جو قدرت کے خزانوں سے بھرے پڑے ہیں اور دنیا کی اس پر نظریں ہیں تو سب نے احتیاط سے کام لینا ہوگا ،خطے کے ممالک خصوصاً افغانستان کو ایک مرتبہ پھر مرکز جنگ بنانے کے خطرناک عزائم کو ترک کرنا ہوگا ۔بہت سے ممالک میں پاکستان سمیت مسلح گروپوں کی موجودگی سے لگتا ہے کہ یہ ان بڑے اور طاقتور ممالک کی اندرونی کشمکش کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ،روس ، چین یورپی ممالک اور تمام دنیا جتنی بھی بندرگاہیں ہیں ، مرکزی اشیاءاور ہمارے اپنے وسائل تک پہنچنے کیلئے سب سے نزدیک اور سستا راستہ گوادر کی بندرگاہ ہے، یعنی تمام دنیا کے طاقتور ملکوں کی نظریں اسی بندرگاہ اور خطے پر جمی ہوئی ہیں،ایسے حالات میں ہمارے سیاسی اور فوجی اداروں ، دفتر خارجہ اور سیاسی پارٹیوں کو چوکنا رہنا ہوگا ، معمولی غلطی ہمیں مشکلات سے دوچار کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان درمیان میں واقع ہے ، 1978کے بعد دنیا کے سپر پاورز کی مداخلت سے افغانستان مختلف ممالک کی مداخلت اور جنگ کا مرکز رہا ، تخریب کاری افغانوں پر مسلط کی گئی اور افغان مسلط کردہ تخریب کاری کے شکار ہوتے چلے آئے ہیں ،آج ایک مرتبہ پھر پشتونخوا وطن میں تخریب کاری کے واقعات تواتر سے جاری ہیں جس کا نوٹس لینا حکومت پاکستان اور اُس کے انتظامی اداروں کے فرائض میں شامل ہیں کہ وہ ہمیں مکمل طور پر امن دیں اور ہماری سرزمین کو غیروں کی جنگ کا آماجگاہ نہ بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسے گنجلک حالات میں طالبان حکمران اُن سیاسی لوگوں کا جو ان کے ساتھ ماسکو اور پھر دوحہ میں افغانستان مسئلے کے حل کیلئے جمع ہوئے تھے ایک اجلاس بلائیں جس میں دنیا کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سفارتی تعلقات بنانے اور افغانستان کو اس تنہائی سے نکالنے کے راستوں پر غور ہو ، اور افغانستان کو تمام افغانوں کے ارمانوں کے اماجگاہ بنانے کے راستے پہ غور وفکر ہو ، اگر ممکن ہو تو افغان حکمران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور چین کے ذریعے اپنے تمام ہمسایوں کی ایک کانفرنس کا بندوبست کریں جس میں ہمسائے اپنی ان خدشات کا ذکر کریں اور افغانستان اُن سے اپنے اُن حقوق اور تحفظات کا اظہار اور خواہش کریں جو ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے اُن کے بنتے ہیں ۔ افغانستان اپنے ہمسایوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی اور ضمانت پہ اُن ممالک میں ہر قسم کی عدم مداخلت کی ضمانت دیں اور یہی کچھ اسی ضمانت پہ اُن سے طلب کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام افغانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ وقت ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا نہیں بلکہ سنجیدگی سے افغانستان کے مسائل اور ساتھ ہی دنیا کے ساتھ تعلقات کی استواری میں اپنا مثبت تعمیری کردار ادا کریں ۔ خطے کی صورتحال کی پیش نظر ارد گرد کے تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آنیوالے وقت کے خطرناک جنگی تصادموں سے بچنے کیلئے سنجیدہ اور موثر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی حکمت عملی اپنانی ہوگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں