اڑھائی سال سے بلوچستان میں پولیو کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا
کوئٹہ (این این آئی)کوئٹہ میں انسداد پولیو سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت انسداد پولیو سے متعلق بلوچستان میں ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر سید زاہد شاہ نے کی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ کے علاوہ ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور این اسٹاف کے نمائندے اور دیگر حکام شریک ہوئےڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں منعقدہ اجلاس میں سات روزہ انسداد پولیو مہم کے پہلے روز کے مہم کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے پولیو کے خاتمے کیلئے ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوآرڈینیٹر سید زاہد شاہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ گزشتہ اڑھائی سال سے بلوچستان میں پولیو کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کی ٹیم رضاکاروں ضلعی انتظامیہ اور دیگر ماہرین کی انتھک محنت بار آور ثابت ہورہی ہے۔ سید زاہد شاہ کا کہنا تھا کہ یہ خوش آئند ضرور ہے مگر اطمینان رکھنا ابھی خطرے سے خالی نہ ہوگا۔ کیونکہ افغانستان اور ملک کے دیگر صوبوں میں پولیو وائرس ماحولیات میں موجود ہے۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا سستی کئی سالوں کی محنت پر پانی پھیر سکتا ہے۔ لہذا ہمیں اس موذی مرض کو ملک سے مکمل طور پر ختم کرنے کیلئے بھرپور محنت اور لگن کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ انسداد پولیو مہم کے معیار اور مکمل کوریج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے دیں۔ جبکہ والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ہر صورت پولیو سے بچاو کے قطرے پلائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں۔ صوبائی کوآرڈینیٹر نے نواں کلی میں پولیو ٹیم کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دو اہلکاروں کہ شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور لواحقین سے تعزیت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کیلئے ہماری قوم جانوں کا نذرانہ پیش کررہی ہے۔ اس موذی مرض کو ختم کرکے اپنے بچوں کو ہمیشہ کی معذوری سے بچانے کا یہ مشن جاری رہے گا۔ اور اس جدوجہد میں شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ اجلاس میں پولیو رضا کاروں اور سیکورٹی اہلکاروں کو انتھک محنت اور نڈر کردار کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے ان ہیروز کا خراج تحسین بھی پیش کیا گیا


