جماعت اسلامی اور جی ڈی اے کا نگران وزیراعظم کی نامزدگی کیلئے مشاورت نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جماعت اسلامی اور جی ڈی اے کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کی جانب سے انہیں نگران وزیر اعظم کی نامزدگی کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ جبکہ جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبد الاکبر چترالی نے راجا ریاض کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ہولڈر قرار دے دیا ۔ اپوزیشن میں نگران وزیر اعظم کی نامزدگی کے بارے میں مشاورت کے معاملے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر برائے نام ہے سب کو معلوم ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ہولڈر ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم تو بڑی بات ہے جو اپوزیشن لیڈر کسی عام وزیر کے آنے پر خوش ہوتا ہو اور اس کی تقریر پر ڈیسک بجاتا ہو اسے ہم کیسے اپوزیشن لیڈر کہہ سکتے ہیں ۔ اپوزیشن لیڈر نے جماعت اسلامی کو نگران وزیر اعظم کے بارے میں سفارشات کی تیاری کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا البتہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران جب راجا ریاض نے مجھ سے غیر رسمی طور پر مجھ سے پوچھا کہ نگران وزیر اعظم کون ہونا چاہیے تو میں نے اس عہدے کے لیے سراج الحق کا نام تجویز کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ان سے بہتر شخصیت کوئی نہیں ہو سکتی ۔ مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا کہ عدالت عظمیٰ بھی سابق سینیٹر امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کو صادق و امین کی تصدیق کرتے ہوئے ریمارکس دے چکی ہے کہ صرف وہ آئینی شقوں 62-63 پر پورا اترتے ہیں ۔سراج الحق درویش صفت انسان ہیں دیانتدار ہیں امانتدار ہیں ان کے دامن پہ کوئی داغ یا دھبہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہو ںنے کہا کہ اگر کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تحریک انصاف کے کارکنان اگر کرپشن کے خلاف ہیں اور ملک کی ترقی اور عوامی مسائل کا حل چاہتے ہیں تو انتخابات میں ان کے لیے واحد آپشن جماعت اسلامی ہی ہو سکتی ہے ۔ جماعت اسلامی حقیقی اپوزیشن ہے ان پانچ سالوں میں جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو کسی وفاقی یا صوبائی حکومت کا حصہ نہیں رہی باقی تمام جماعتیں وفاق اور صوبوں میں حکومتوں کا حصہ رہی ہیں ۔ مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا کہ صاف شفاف منصفانہ انتخابات قومی ضرورت ہے ۔ جی ڈی اے کے رہنما غوث بخش مہر نے میڈیا کے استفسار پر کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وزیر اعظم کی نامزدگی کے سلسلے میں انہیں تو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ ہمیں کسی مشاورتی اجلاس کی اطلاع نہیں ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں