گوادر کو اب تک پانی نہیں مل رہا، بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے برسوں مکمل نہیں ہوتے، اختر لانگو

کوئٹہ (این این آئی) پی اے سی کا اجلاس چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں اختر حسین لانگو کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی ملک نصیر احمد شاہوانی، ثناءاللہ بلوچ، زمرک خان اچکزئی، زابد علی ریکی، قادر علی نائل اور نصراللہ زیرے نے شرکت کی۔ اجلاس گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ اپروپوریشن اکاونٹس 2021-22آڈٹ پیراز 2022-23اورکمپلائنس رپورٹ زیر بحث رہے۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اے جی بلوچستان نصراللہ جان، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ محمد شجاح، ایڈیشنل سیکریٹری پی اے سی سراج الدین لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ حمید اللہ ناصر ، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال جی ڈی اے کے آفیسران اور چیف اکاونٹ آفیسر سیدمحمد ادریس نے شرکت کی۔اے جی بلوچستان نے استفسار کیا کہ خودمختار اداروں نے اپنے اکاونٹس خود بنانا ہوتا ہے لیکن متعلقہ ادارے بروقت اپنے اکاونٹس نہیں بناتے ہیں۔ کمیٹی نے محکمہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اکاونٹس کو جلد بنائے۔ ڈی جی آڈٹ نے ایک پیرا پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی اے کے ایسے پروجیکٹس ہے جن کو بہت پہلے مکمل ہونا تھا جو اب تک مکمل نہیں ہوئے۔ چیئرمین پی اے سی اختر حسین لانگو نے کہا کہ اس فورم کا کام صرف ریکوری نہیں ہوتا بلکہ محکموں کی کارکردگی کو دیکھنا ہوتا ہے۔ جن پروجیکٹس کو 2019 میں مکمل ہونا تھا وہ اب 2023 میں بھی مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ ورک پلان کے بغیر کام ہو رہا ہے۔ چیئرمین پی اے سی فورم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب صوبے کی جانب سے واپڈا جیسے اداروں کو مختلف مد میں بجٹ دیا جاتا ہے لیکن مرکزی ادارے ان پیسوں کو رکھ کر کئی سالوں بعد معذرت کر کے کہتے ہیں اب مہنگائی زیادہ ہوگئی متعلقہ پراجیکٹس ان پیسوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔ڈی جی آڈٹ نے ایک پیرا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کے لئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا تھا جس کے لئے جی ڈی اے نے 5 ملین کا ڈیمانڈ کیا تھا لیکن کام کو بروقت ٹینڈر نہ کرنے کی وجہ سے 17 بلین تک پہنچ گیا۔لیکن یہ کام اب تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا۔اختر حسین لانگو نے کہا کہ جس نے پی سی ون پلان کیا تھا اسے کیوں پتہ نہیں تھا کہ ایسے پروچیکٹ کے لئے بین الاقوامی بڈرز نے آنا ہے۔ ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے عوام کے پیسوں کا ضیاع ہورہا ہے۔ گوادر کو اب تک پانی نہیں مل رہا۔ جب لوکل بڈر کام نہیں کرسکتے تو ایسے پراجیکٹس کے لئے پی سی ون بنانے سے پہلے یہ سوچنا چاہیئے تھا۔ اگر جی ڈی اے کے پاس ایسے پراجیکٹس کو مکمل کرنے کی قابلیت نہیں تو ایسے پراجیکٹس کی ڈیمانڈ ہی نہیں کرنی چاہیے۔ ثناءاللہ بلوچ نے کہا کہ جب بلوچستان کے لئے دو چار پیسے ہمیں ملتے ہیں تو اداروں کے اندر وہ قابلیت ہونی چاہیے کہ وہ ایسے کام کو سرانجام دے سکتے۔ ہمارے محکموں کی نالائقی کی وجہ سے ہمیں وفاق کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر آج بھی ایسے محکموں کی کارکردگی کی آڈٹ کی جائے تو اداروں کی نالائقی بڑھ چڑھ کر سامنے آجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آفیسرز ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دے تاکہ پرجیکٹس بروقت پایہ تکمیل کو پہنچ سکیں۔اور عوام کے پیسہ ضائع نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں