بلوچستان اسمبلی نے اراکین کو ایم پی اے لاجز خالی کرنے اور بقایا جات کی ادائیگی کیلئے مراسلہ لکھ دیا
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی نے اراکین اسمبلی کو مراسلہ جاری کردیا۔ بلوچستان اسمبلی کی آئینی مدت 12 اگست کو ختم ہورہی ہے۔ اس حوالے سے بلوچستان اسمبلی نے اراکین کو مراسلہ جاری کیا ہے کہ تمام اراکین اسمبلی ایم پی اے لاجز کے بقایا جات 12 اگست تک جمع کرائیں، بقایا جات میں روم چارجز، بجلی، ٹیلی فون اور گیس کے بلز شامل ہیں۔ مراسلہ میں لکھا گیا ہے کہ تمام اراکین 27 اگست تک ایم پی اے لارجز خالی کردیں، قائد حزب اختلاف، قائمہ کیمٹیوں کے چیئرمین اپنی گاڑیاں واپس کردیں، اراکین اسمبلی گاڑیاں اور بقایا جات ادا کرکے این او سی حاصل کرلیں۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے اسمبلی سیکرٹریٹ سے نادہندگان کی لسٹ بھی طلب کرلی۔ بلوچستان اسمبلی کے اسٹیٹ آفیسرعبدالحنان کٹکے زئی نے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کی مدت آج ( 12)اگست2023ءکو ختم ہورہی ہے صوبائی وزرائ، مشیران ، پارلیمانی سیکرٹریز ،قائد حزب اختلاف،چیئرپرسنز اسٹینڈنگ کمیٹیز اورارکان بلوچستان اسمبلی سے اپیل کی ہے کہ اپنے ذمہ اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے الاٹ فلیٹس ،ایم پی ایز ہاسٹل کے روم چارجز کی مد میں بقایاجات کی مکمل ادائیگی اورسیکرٹریٹ کو گاڑیوں کی واپسی کویقینی بنائیں ۔اسٹیٹ آفیسر کی جانب سے ارکان اسمبلی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ 11ویں بلوچستان اسمبلی کی آئینی مدت12اگست 2023ءکو ختم ہونے جارہی ہے لہٰذا وزراء، مشیران وزیراعلی،پارلیمانی سیکرٹریز ،قائد حزب اختلاف ،چیئرپرسنز اسٹیڈنگ کمیتیز اور ارکان ابلوچستان صوبائی اسمبلی سے اپیل کی ہے کہ جن جن کوایم پی ایز لاجز میں اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے فلیٹس الاٹس کئے گئے ہیں وہ اپنے اپنے گیس ،بجلی اور ٹیلی فون بلز وغیرہ اور ایم پی ایز ہاسٹل کے روم چارجز کی مد میں تمام بقایاجات کی مکمل ادائیگی 12اگست سے قبل یقنی بنائیں اور ایم پی ایز لاجز میں رہائش پذیر تمامالاٹیز سے اپیل کی ہے کہ وہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد15دن کے اندر اندر ایم پی ایز لاجز کو خالی کریں۔خط میں چیئرمین ،چیئرپرسنز ، اور قائد حزب اختلاف سے بھی اپیل کی ہے کہ جنہیں اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے بطورقائد حزب اختلاف اورچیئرمین ،چیئرپرسنز سرکاری گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں وہ بھی اپنی گاڑیاں صحیح حالات میں سیکرٹریٹ کو واپس کریں تاکہ سیکرٹریٹ کی جانب سے این او سی لینے کی بات انہیں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان کی جانب سے موصول شدہ مراسلے میں نادہندگان کی لسٹ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ اسے بروقت متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کو بھجوایا جاسکے۔


