حب میںبوری بند لاش کا معمہ حل، قاتل بیوی اور ملزم گرفتار کرلیا گیا

حب (نمائندہ انتخاب ) بوری بند تشدد زدہ نعش حب پولیس نے قتل واردات کی گتھی سلجھا دی، مقتول کی 17سالہ نئی دلہن نے آشنا کے ساتھ مل کر جائیداد کی لالچ میں 75سالہ شوہر کوموت کے گھاٹ ا±تار ااور آشنا کے دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ ملکر نعش کو ٹھکانے لگایا ملزمہ اور آشنا گرفتار مزید دو ساتھیوں کی تلاش جاری پولیس افسران کی پریس کانفرنس میں انکشافات مزید تحقیقات جاری ہے اس حوالے سے DSPحب سرکل پولیس رفیق حمزہ بلوچ نے SHOحب سٹی شاہنواز مینگل اور کیس کے تفتیشی آفیسر عبدالحکیم رونجھو کے ہمراہ حب سٹی تھانہ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ 7اگست کو مری چوک کے قریب مراد آباد سے ملنے والی بوری بند تشددزدہ نعش کی شناخت حاجی فقیر محمد ساسولی کے نام سے کئے جانے کے بعد پولیس نے شک کی بناءپر مقتول 75سالہ فقیر محمد ساسولی کی 17سالہ بیوہ (س) کو کیس میں شامل تفتیش کرکے حراست میں لیا تو ملزمہ نے ابتدائی تفتیش کے دوران ہی تمام راز ا±گل دیا اور ملزمہ کے انکشاف کی روشنی میں پولیس نے ایک چھاپہ مار کاروائی میں ملزمہ کے آشناساتھی ملزم اقبال عرف عمران کو گرفتار کرلیا پولیس افسران کے مطابق مقتول حاجی فقیر محمد ساسولی جو کہ صاحب جائیداد اور لینڈ لارڈ تھانے چھ سات ماہ قبل مذکورہ خاتون (س) سے پانچویں شادی کی تھی اور مری چوک کے قریب رہائش پذیر تھاپولیس کے مطابق ملزمہ (س)کا اپنے پڑوسی اقبال عرف عمران سے معاشقہ چل رہا تھا اور اسی دوران انھوں نے فقیر محمد ساسولی کو راستے سے ہٹاکر اور ا±سکی جائیداد ہتھیا کر شادی کرنے کی منصوبہ بندی کی اور واردات کی رات کو پہلے مقتول کو کوئی نشہ آور چیز کھلا کر بے ہو ش کرنے کے بعد ا±سکے سر پر بھاری پتھر مار کر اور تیزاب پھینک کر ا±سے قتل کیا اور دو دن دو راتیں نعش کو گھر میں رکھنے کے بعد ملزم اقبال عرف عمران نے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ نعش کو ٹھکانے لگانے کا کام کیا پولیس کے مطابق اس سے قبل نعش ملنے پر مقتول کی پہلی ایک بیوی سے بیٹے محمد ابراہیم نے اپنے والد کے لاپتہ ہونے کے بارے میں جب پولیس کو آگاہ کیا تو ا±سے نعش کی شناخت کرائی گئی لیکن نعش پ±رانی ہونے اور چہرہ مسخ ہونے کے سبب وہ شناخت نہ ک سکا تاہم پولیس نے موبائل فون ڈیٹا کے ذریعے جب باریک بینی سے تفتیش کی تو حقائق سامنے آگئے پولیس افسران کے مطابق ملزم اقبال عرف عمران کے 2 ساتھی ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں اور مزید تحقیقات بھی کی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں