سندھ کے نئے مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا
کراچی: سندھ حکومت اپنے آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کرے گی۔سندھ کے نئے مالی سال 21-2020 کا بجٹ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پیش کریں گے۔ بجٹ میں سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کی مالی مراعات میں اضافےکی تجویز دی گئی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ کرے گی۔کورونا ایمرجنسی ریسپانس پروگرام کے لیے پانچ ارب روپے مختص کرنے اور این آئی سی وی ڈی کے لیے پانچ اعشاریہ ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ایس آئی یو ٹی کے لیے پانچ ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کی تجویز جبکہ ٹرانسپورٹ کا کوئی نیا منصوبہ بجٹ تجاویز میں شامل نہیں ہے۔ محکمہ صحت کی نئی اسکیمز کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔تعلیم کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 21 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ سندھ حکومت کا امن وامان کے لیے مختص بجٹ میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں پولیس، جیل خانہ جات سمیت امن وامان کا مجموعی بجٹ ایک ارب روپے سے کم ہو گا جبکہ سندھ کے بجٹ کا مجموعی حجم بارہ سو بیس ارب روپے تک ہو گا۔ سندھ حکومت نے کوئی ٹیکس تجویز نہیں کیا۔محکمہ صحت کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 23 ارب پچاس کروڑ روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے۔کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر سندھ اسمبلی میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ارکان کی بڑی تعداد اجلاس میں آن لائن شرکت کرے گی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران اسمبلی میں 25 فیصد ارکان موجود ہوں گے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے صحت وتعلیم کے شعبوں میں بھی خطیر رقم کا اضافہ کیا جائے گا جسے وفاقی حکومت نے یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔اس سے قبل سندھ کابینہ کا پری بجٹ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوگا جس میں سندھ کابینہ بجٹ تجاویز کی منظوری دے گی۔ سید مراد علی شاہ نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کورونا وائرس سے متعلق اقدامات اورواٹر اینڈ سینی ٹیشن کو ترجیح دی جائے گی۔


